قومی

Tej Pratap Yadav target Tejashwi Yadav: ’بابو، وقت نہیں لگے گا‘؛ روہنی کے بعد تیج پرتاپ کی للکار، بھائی تیجسوی کو انتباہ

بہار اسمبلی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی بھاری شکست کے بعد لالو خاندان کی اندرونی کشمکش اب سرعام سامنے آ گئی ہے۔ لالو یادو کے بڑے بیٹےاور جن شکتی جنتا دل کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن روہنی آچاریہ کو گھر سے نکال دیا گیا ہے۔ روہنی آچاریہ نے خود عوامی طور پر لالو خاندان سے رشتے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اب تیج پرتاپ یادو اپنے بھائی تیجسوی پر حملہ آور ہوگئے ہیں اور انہیں انتباہ بھی دے دیا ہے۔ تیج پرتاپ یادو نے اپنی پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کرتے ہوئے اپنے بھائی تیجسوی یادو اور والد لالو پرساد یادو پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے آر جے ڈی کی مسلسل کم ہوتی سیٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے۔

اب آر جے ڈی لالو کی پارٹی نہیں

روہنی آچاریہ کی جانب سے رشتہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد جذباتی ہوئے تیج پرتاپ نے الزام لگایا کہ آر جے ڈی اب لالو کی فکر اور نظریے والی پارٹی نہیں رہی، بلکہ ’’جَے چَندوں کے قبضے میں آئی ہوئی پارٹی‘‘ بن چکی ہے، جہاں اصولوں کی جگہ خوشامد اور عقیدت کی جگہ سازش نے لے لی ہے۔ انہوں نے لکھا: ’’پہلے مجھے نکالا، پھر دیوی جیسی میری بہن روہنی کو نکالا۔ پورا بہار ہنس رہا تھا کہ جس خاندان نے لوگوں کو ہنسایا اور رُلایا، وہی آج خود مذاق کا کردار بن گیا ہے۔

تیج پرتاپ یادو کی تیجسوی یادو کو وارننگ

تیج پرتاپ نے کہا کہ جب مجھے نکالا گیا تھا تو لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ تیج پرتاپ بےکار ہے۔ جس دن میں باہر نکلا اور نئی آر جے ڈی کی حقیقت عوام کے سامنے رکھی، اسی دن سب کو سمجھ آگیا کہ انہوں نے کیا کھو دیا۔ تیجسوی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سب کو نکالو گے تو پھر بچے گا کون؟ یہی سوال اب عوام پوچھ رہی ہے۔

سیٹوں کے اعداد و شمار پیش کیے

تیج پرتاپ نے مہابھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاندان اور پارٹی میں پھوٹ کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ سیٹوں میں مسلسل کمی کے حوالے سے انہوں نے 2015 سے 2025 تک آر جے ڈی کی سیٹوں کے اعداد پیش کیے:

2015 — 80 سیٹ

2020 — 75 سیٹ

2025 — 25 سیٹ

25 سے 5 آنے میں وقت نہیں لگے گا

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ الیکشن میں آر جے ڈی کو 25 سے 5 سیٹ پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جن 44 نشستوں پر ان کی پارٹی نے انتخاب لڑا، وہاں آر جے ڈی کو صرف 5 سیٹیں ہی ملی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

7 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

8 hours ago