قومی

India’s attempt to increase ethanol production: بھارت میں گنے کی بڑھتی طلب سے چینی کی سپلائی اورایتھنول پالیسی پرسوالات

نئی دہلی: بھارت میں ایتھنول کی آمیزش والے ایندھن کے استعمال کو بڑھانے کی پالیسی کے باعث گنے کی طلب میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس بڑھتی طلب نے چینی کی دستیابی اور قیمتوں کو لے کر تشویش پیدا کردی ہے۔ بھارت صاف ستھرے ایندھن کی حکمت عملی کے تحت ایتھنول کی پیداوار میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ گنا ایتھنول تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اہم خام مال میں شامل ہے۔ تاہم توانائی کے شعبے سے گنے کی بڑھتی طلب اس گنے کی سپلائی پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے جو ملک کی چینی کی صنعت کے لیے بھی ضروری ہے۔

گنے کی بڑھتی طلب سے چینی کی سپلائی پر دباؤ

ملکی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں مضبوطی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ گنے کی نسبتاً محدود دستیابی اور گنے سے تیار ہونے والی مصنوعات کی بڑھتی طلب کو قرار دیا جارہا ہے۔ چینی خوراک اور مشروبات کی صنعت میں ایک اہم جزو ہے۔ اس لیے اس کی سپلائی میں کمی کا خدشہ نہ صرف صنعت کاروں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت نے آئندہ سیزن کے لیے حال ہی میں گنے کی امدادی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کسانوں کو گنے کی پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا ہے۔

چینی کی درآمد پر غور

حکام نے پہلے ہی بڑی مقدار میں چینی خریدنے والے خریداروں کے پاس موجود چینی کے ذخیرے کی مقدار پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اس اقدام سے اشارہ ملتا ہے کہ حکومت ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اندوزی روکنے اور بازار میں چینی کی دستیابی کو مستحکم رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر ملک میں چینی کی سپلائی ناکافی رہتی ہے تو حکومت چینی درآمد کرنے کے آپشن پر بھی غور کررہی ہے۔ اگر بھارت کو چینی درآمد کرنا پڑتی ہے تو یہ تقریباً ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ہوگا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملکی سطح پر چینی کی سپلائی کو لے کر صورتحال کتنی اہم ہوگئی ہے۔

ایتھنول اور غذائی تحفظ کے درمیان توازن کا چیلنج

ان پیش رفتوں نے ایتھنول کی پیداوار اور غذائی تحفظ کے درمیان توازن کے معاملے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ضروری اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہونے سے پہلے ہی اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ گنے کی بڑی مقدار کو ایندھن کی پیداوار کی جانب منتقل کرنے کے کیا معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ گنے کا ایک بڑا حصہ ایتھنول کی تیاری کے لیے استعمال ہونے سے چینی کی پیداوار اور دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسے میں پالیسی سازوں کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ توانائی کی ضروریات اور غذائی اشیا کی دستیابی، دونوں کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جائے۔

پیٹرول پمپس پر مختلف ایتھنول آمیزش والے ایندھن کی دستیابی اہم

رپورٹ کے مطابق پیٹرول پمپس پر مختلف تناسب والے ایتھنول آمیز ایندھن کی دستیابی میں مارکیٹ کی طلب کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر صارفین کم ایتھنول والے ایندھن کو ترجیح دیتے ہیں تو مستقبل میں انہیں اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ اس طرح صارفین کی طلب بھارت کی بدلتی ہوئی توانائی پالیسی میں مزید اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

توانائی کی ضرورت اور خوراک کی فراہمی میں توازن ضروری

بھارت کی ایتھنول پالیسی ملک کی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ تاہم اس پالیسی کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ زرعی وسائل کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ توانائی اور خوراک، دونوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ گنے کی بڑھتی طلب کے درمیان حکومت کے لیے چینی کی قیمتوں، ملکی ذخائر، کسانوں کے مفادات اور ایتھنول کی ضرورت کے درمیان توازن برقرار رکھنا اب ایک اہم پالیسی چیلنج بنتا جارہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

2 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

2 hours ago