ریٹیلرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (RAI) کے مطابق بھارت کا ریٹیل سیکٹر جو اس وقت تقریباً 900 ارب ڈالر کا ہے اور 5 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جلد ہی 9 سے 10 فیصد کی تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے سی ای او کمار راجا گوپالن نے بتایا کہ صارفین کی بڑھتی ہوئی قوتِ خرید اور مضبوط آبادیاتی بنیاد اس نمو کو ممکن بنارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’’کورونا وبا کے فوراً بعد ریٹیل سیکٹر نے 20 فیصد کی رفتار سے ترقی کی، لیکن گزشتہ سال یہ رفتار 5 فیصد تک محدود ہوگئی۔ اب ہمیں توقع ہے کہ جلد ہی یہ ترقی 9 سے 10 فیصد کے درمیان ہو جائے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کا تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب سفر، فی کس آمدنی میں اضافے اور صارفین کے اخراجات میں بہتری کی وجہ سے مجموعی کھپت میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔
تیزی سے منظم ہو رہا ہے ریٹیل سیکٹر
آر گوپالن کے مطابق ریٹیل سیکٹر تیزی سے منظم (organised) ہو رہا ہے اور 10 سال پہلے جہاں صرف 4 سے 5 فیصد ریٹیلنگ منظم تھی، اب یہ شرح 17 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس تبدیلی میں نوجوان نسل کی کاروبار میں شمولیت، ای کامرس کا فروغ اور حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی، ڈیجیٹل ادائیگی جیسے اقدامات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج کا خریدار آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے خریداری کر رہا ہے، لہٰذا صنعت کو بدلتے ہوئے رجحانات سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔‘‘ کمار راجا گوپالن کے مطابق اگرچہ اس شعبے میں افرادی قوت کی کمی نہیں، لیکن معیاری ٹیلنٹ کی تلاش، اس کی تربیت اور اسے برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ریٹیل انڈسٹری میں اس وقت 4 کروڑ سے زائد افراد کام کر رہے ہیں، جو زراعت کے بعد سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…