قومی

Republic Day Parade: کب شروع ہوئی 26 جنوری کی پریڈ، کیا ہے جھانکیوں کی تاریخ، یہاں پڑھیں خاص باتیں

Republic Day Parade History:  یوم جمہوریہ (26 جنوری) نام سنتے ہی ہر ہندوستانی شہری کے دل میں سب سے پہلے دو باتیں آتی ہیں۔ پہلی بات ہندوستان کا آئین اور دوسرا یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں ہونے والا شاندار پریڈ۔ 1950 میں 26 جنوری کی ہی تاریخ کو ہندوستان کا آئین نافذ ہوا تھا۔ یعنی آج سے 74 سال پہلے پہلی بار ہر ہندوستانی کے لئے اپنا قانون نافذ ہونے کا دن تھا۔ آئین ملک کے ہر شہری کے لئے سب سے تصدیق شدہ دستاویز بنا اور اس کی ہر بات ملک کے لئے وقار بن گیا۔

آئین کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان ایک خودمختار ریاست بن گیا۔ اس کی ایک ایک چیز اپنی تھی، ملک کے جغرافیہ سے لے کرسیاست تک ہر چیز اس کے شہری کے لئے ہوگئی۔ اس خود مختاری کی حفاظت ہندوستان کی فوج کرتی ہے، جس کے جانباز اپنے مادر وطن کے حفاظت کے لئے جان نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ 26 جنوری کو ہرسال راجدھانی میں شاندار پریڈ کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں فوج کی ٹکڑیاں اپنی تاریخ اور فخر کو یاد دلاتے ہوئے اپنے سپریم کمانڈر یعنی ہندوستان کے صدر جمہوریہ کو سلامی دیتی ہیں۔

 سال 1955 میں پہلی بار پریڈ

راشٹرپتی بھون سے شروع ہوکر یہ پریڈ لال قلعہ پر ختم ہوتی ہے۔ اکثرلوگ سمجھتے ہیں کہ شاید پہلے یوم جمہوریہ سے اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے، یوم جمہوریہ پر پہلی بار 1955 میں پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ 2023 کو 26 جنوری کو یہ پریڈ کرتبیہ پتھ پر ہو رہا ہے، لیکن اس وقت اس کا نام راج پتھ ہوا کرتا تھا۔ 1955 سے مستقل طور پر چل رہے اس پریڈ کا چار بار مقام تبدیل کیا گیا ہے۔

بدلتا رہا مقام

سال 1955 سے پہلے یوم جمہوریہ کی پریڈ دہلی کے الگ الگ مقامات پر ہوتی رہی۔ پہلے یوم جمہوریہ پر دہلی کے اروِن اسٹیڈیم میں یہ منعقد کی گئی۔ اس کے بعد کبھی رام لیلا میدان، کبھی لال قلعہ اور کبھی راج پتھ میں صدر جمہوریہ نے پریڈ کی سلامی لی۔ سال 1955 میں پہلی بار 26 جنوری کو راج پتھ پر پریڈ منعقد کی گئی۔ تب سے اس پریڈ کو مستقل کردیا گیا۔ ساتھ ہی سلامی اسٹیج کو بھی مستقل کردیا گیا، جہاں ملک کی فوج اپنے سپریم کمانڈر کو سلامی دیتی ہے۔

 فوجی طاقت کے ساتھ تہذیبی جھانکی

راج پتھ پر فوج کی ٹکڑیوں کے مارچ سے جہاں ملک کی اپنی فوجی طاقت کا احساس کراتا ہے۔ وہیں اس پریڈ میں ملک کی تہذیبی جھلک بھی ملک اور دنیا کو دیکھنے کو ملتی ہے۔ پورے ملک کے الگ الگ ریاستوں کی جھانکیوں کو بھی پریڈ میں جگہ ملتی ہے، جس میں وہاں کی تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مختلف ریاستوں کی جھانکیاں دلوں کو جیت لیتی ہیں۔ 1953 میں پہلی بار 26 جنوری پر ثقافتی لوک رقص کی جھلک دیکھنے کو ملی تھیں، جن میں الگ الگ ریاستوں کے قبائلی رقص شامل تھے۔ تہذیبی ثقافت ملک میں تنوع میں اتحاد کی مثال دیتی ہیں۔ ساتھ ہی ملک کے ہر رنگ کو اس موقع پر اس میں شامل ہونے کے مواقع دیتے ہیں۔

 -بھارت ایکسپریس

Nisar Ahmad

Recent Posts

Delhi Air Pollution: دہلی میں آلودگی کو لیکر سخت پابندیاں عائد، پہلے دن 68 لاکھ روپے کا جرمانہ، 127 گاڑیوں کے چالان

یہ پابندیاں ایسے وقت نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا ایئر کوالٹی…

33 minutes ago

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

10 hours ago

Ind vs NZ Vaibhav Suryavanshi: ’یہ ویبھو پروٹیسٹ کر رہا ہے!’ پلیئنگ الیون سے باہر ہونے پر اکشر پٹیل نے لی چٹکی، ویڈیو وائرل

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…

10 hours ago

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

10 hours ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

11 hours ago