نئی دہلی:آج کی تیز رفتار زندگی میں مکمل اور پرسکون نیند لینا بہت سے لوگوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ابتدا میں نیند کی کمی صرف تھکن یا سستی کی صورت میں محسوس ہوتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جسم ایسے کئی اشارے دینے لگتا ہے جنہیں نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ بار بار چائے یا کافی پینے کی خواہش، بلا وجہ غصہ آنا یا میٹھی چیزیں کھانے کی طلب کو معمولی بات سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ علامات اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ جسم کو مناسب آرام اور بھرپور نیند کی ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق نیند صرف جسم کو آرام دینے کا عمل نہیں بلکہ اسی دوران جسم خود کو بحال کرتا ہے، توانائی دوبارہ حاصل کرتا ہے اور دماغ دن بھر کی معلومات کو منظم کرتا ہے۔ اگر مسلسل نیند پوری نہ ہو تو اس کے اثرات صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہتے بلکہ سوچنے کی صلاحیت، مزاج، بھوک، یادداشت اور مدافعتی نظام بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔
اگر صبح بیدار ہوتے ہی یا دن بھر کام کے دوران بار بار چائے یا کافی کا سہارا لینا پڑے تو یہ نیند کی کمی کی ایک عام علامت ہو سکتی ہے۔ کیفین وقتی طور پر دماغ کو متحرک کر دیتی ہے اور تھکن کا احساس کم ہو جاتا ہے، لیکن یہ وہ حقیقی آرام فراہم نہیں کر سکتی جو اچھی اور گہری نیند سے حاصل ہوتا ہے۔نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بہت سے افراد کو اچانک میٹھی اشیا، فاسٹ فوڈ یا زیادہ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں کھانے کی خواہش ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جسم میں ہارمونز کا عدم توازن ہے۔ نیند کی کمی بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث جسم فوری توانائی دینے والی غذاؤں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جب دماغ تھکا ہوا ہو تو کھانے پینے پر قابو رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر پہلے کے مقابلے میں اب معمولی باتوں پر زیادہ غصہ آنے لگا ہو یا مزاج جلد خراب ہونے لگے تو اس کے پیچھے بھی نیند کی کمی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔ مناسب نیند نہ ملنے سے دماغ جذبات کو متوازن رکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کے باعث معمولی مسائل بھی بڑے محسوس ہونے لگتے ہیں اور چڑچڑا پن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔نیند کی کمی کا براہِ راست اثر دماغی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے۔ اگر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہو، باتیں جلد بھولنے لگیں یا چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں بھی زیادہ وقت لگنے لگے تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جسم کو مناسب آرام نہیں مل رہا۔ اچھی نیند دماغ کو نئی معلومات یاد رکھنے، انہیں سمجھنے اور درست فیصلے لینے میں مدد دیتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر بار بار نزلہ، زکام یا دیگر انفیکشن ہونے لگیں تو یہ کمزور مدافعتی نظام کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط رکھنے میں نیند بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مسلسل کم سونے سے بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور انسان جلد بیمار پڑ سکتا ہے۔تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان تمام علامات کی وجہ ہر بار صرف نیند کی کمی نہیں ہوتی۔ ذہنی دباؤ، بے چینی، تھائرائیڈ کے مسائل، غذائیت کی کمی، خون میں شوگر کی خرابی یا بعض ادویات کے مضر اثرات بھی ایسی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ مسائل مسلسل برقرار رہیں تو خود علاج کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے تاکہ اصل وجہ معلوم کر کے بروقت علاج کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…