نئی دہلی: اس یادگار تقریب میں اردو اورہندی شعروادب کی اہم شخصیات کے علاوہ کرشن بہاری نورکے اہلِ خانہ، شاگردان، مداحوں، صحافیوں اورادب دوستوں نے عقیدت وخلوص کے ساتھ شرکت کی اورنورکی ادبی و شعری خدمات کوخراجِ تحسین پیش کیا اوراسے کرشن بہاری نورکے ادبی ورثے کو محفوظ کرنے کی ایک اہم کاوش قراردیا۔ یہ کلیات معروف ناظم مشاعرہ اورسینئرصحافی معین شاداب نے مرتب کیا ہے، جبکہ عبارت پبلی کیشن نے اسے اردو اوردیوناگری دونوں رسم الخطوں میں شائع کیا ہے۔
تقریب میں کرشن بہاری نورکے شاگرد ڈاکٹرکرشن کمارناز، دیپک جین اوراروند اثرکے ساتھ ساتھ ان کے آنجہانی شاگرد گووند گلشن کی صاحبزادی خوشبوسکسینہ نے بھی شرکت کی اوراپنے استادِ بزرگ کے تئیں عقیدت کا اظہارکیا۔ کرشن بہاری نورکےخانوادے سے ان کے صاحبزادے کنورارون کمار، بہورشمی شریواستو، صاحبزادی نیرا شریواستو، داماد راکیش شریواستواورپوتی سُگندھا نے خصوصی طورپرشرکت کی۔
’من مُرشد‘ کی اشاعت اوراجرا پرمسرت کا اظہار
اس موقع پرہیوسٹن (امریکہ) میں مقیم شاعروادیب عدیل زیدی اورمعروف شاعرعباس تابش کے آڈیواورویڈیوپیغامات بھی سنائے گئے، جنھوں نے’’من مُرشد‘‘ کی اشاعت اوراجرا پرمسرت کا اظہارکیا۔ اس کلیات کی اشاعت میں عدیل زیدی کی سرپرستی اورخصوصی دلچسپی ناقابلِ فراموش ہے۔ کرشن بہاری نورسے ان کی والہانہ عقیدت اورمحبت نے اس طویل اوردشوارعمل کوآسان بنانے میں اہم کردارادا کیا۔عدیل زیدی نے اس کلیات کی اشاعت کے لیے جس طرح سرپرستی، تعاون اورحوصلہ افزائی کی، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
کرشن بہاری نورکی یاد میں مشاعرہ کا اہتمام
رسمِ اجرا کے بعد کرشن بہاری نورکی یاد میں ’’دھیان میں گُم تھا‘‘ کے عنوان سے ایک مشاعرہ بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت بزرگ اوراستاد شاعرسلیم شیرازی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیئے۔ مشاعرے میں بال سروپ راہی، پروفیسرشہپررسول، منصورعثمانی، منگل نسیم، ڈاکٹرکرشن کمارناز، دیکشت دنکوری، دیپک جین، اروند اثر، پروفیسررحمان مصور، اختراعظمی، انس فیضی، اسراررازی، نادم ندیم، خوشبو سکسینہ، گایتری مہتہ اورشارقہ ملک سمیت متعدد شعرا نے اپنا کلام پیش کرکے سامعین کومحظوظ کیا۔ مشاعرے کا اہتمام ڈریمس انڈیا ریسرچ فاؤنڈیشن نے اردواکادمی، دہلی کے اشتراک سے کیا تھا۔
تقریب میں ادبا، شعرا، صحافیوں اوردانشوروں کی شرکت
تقریب میں دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ادبا، شعرا، دانشوروں، صحافیوں اورادب دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹرارجمند آرا، رمن ہتکاری، راج منی شریواستو، اجے اگیات، سمیر دہلوی، سہیل انجم، ناصرعزیزایڈووکیٹ، ڈاکٹرمنورحسن کمال، ڈاکٹروسیم راشد، رخشندہ روحی، ڈاکٹرابراہیم افسر، محمد تقی، مسعود ہاشمی، سعد اختر، یعقوب چشمے والے، عزیرقدوسی، جاوید رحمانی، ڈاکٹرصدف فاطمہ، شاہد حبیب، مالک اشتر، فرید احمد، آسیہ خان، زرین صدیقی، سید وجاہت مظہر، شاکردہلوی، شاہ رخ عبیر، عارف دہلوی، گولڈی غضب، ملک رضوان، جاوید عالم، شہزاد علی، وسیم احمد، آصف علوی اوررفیع اللہ سمیت متعدد اہم شخصیات اس تقریب کا حصہ بنیں۔ ’من مُرشد‘ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ کرشن بہاری نورؔ کی تخلیقی، تہذیبی اورشعری زندگی کا ایسا جامع دستاویزہے جوآنے والی نسلوں تک ان کی آوازاورفکرکومنتقل کرتا رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…