ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے مالی سال 2024-25 کے دوران بینکوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کے لیے 353 جرمانے عائد کیے، جن کی کل مالیت 54.78 کروڑ روپے رہی۔
کس بنیاد پر لگے جرمانے؟
یہ جرمانے بینکوں کی سائبر سیکیورٹی انفراسٹرکچر، رسک مینجمنٹ اور اکاؤنٹنگ کے اصول (IRAC)، ‘اپنے گاہک کو جانیں’ (KYC) ہدایات، فراڈ کی درجہ بندی اور رپورٹنگ، CRILC ڈیٹا کی رپورٹنگ اور کریڈٹ انفارمیشن کمپنیز (CIC) کو قرض کی معلومات نہ دینے جیسے امور پر خلاف ورزی کی بنیاد پر لگائے گئے۔
کن بینکوں پر کارروائی ہوئی؟
8 سرکاری بینکوں پر 11.11 کروڑ روپے کا جرمانہ، جن میں پنجاب نیشنل بینک (PNB) بھی شامل ہے۔
15 نجی بینکوں پر 14.8 کروڑ روپے کا جرمانہ۔
6 غیر ملکی بینکوں پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا۔
264 کوآپریٹو بینکوں پر 15.63 کروڑ روپے کے جرمانے۔
37 نان بینکنگ فنانس کمپنیز (NBFCs) اور ایسٹ ری کنسٹرکشن کمپنیز پر 7.29 کروڑ روپے کا جرمانہ۔
13 ہاؤسنگ فنانس کمپنیز پر 83 لاکھ روپے کا جرمانہ۔
ریکارڈ ڈیویڈنڈ کا اعلان
RBI نے حکومت کو مالی سال 2024-25 کے لیے 2.69 لاکھ کروڑ روپے کا ریکارڈ ڈیویڈنڈ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 27.4 فیصد زیادہ ہے۔
2023-24 میں: 2.1 لاکھ کروڑ روپے
2022-23 میں: 87,416 کروڑ روپے
یہ فیصلہ RBI کے مرکزی بورڈ کی 616ویں میٹنگ میں کیا گیا، جس کی صدارت گورنر سنجے ملہوترا نے کی۔
RBI نے ضوابط کی خلاف ورزی پر کئی بینکوں اور مالیاتی اداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں تاکہ مالی نظام میں شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔ ساتھ ہی حکومت کو ریکارڈ ڈیویڈنڈ کی ادائیگی سے مالیاتی استحکام کی مضبوطی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…