قومی

Ramesh Bidhuri Controversy Row: ’پریشانی بدھوڑی نہیں ہے‘ پارلیمنٹ میں متنازعہ تبصرہ کئے جانے پر ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے بی جے پی پر اٹھائے سوال

Ramesh Bidhuri Contorversy: لوک سبھا میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری کے نازیبا ریمارکس کے بعد اپوزیشن مسلسل مرکزی حکومت پرحملہ آور ہے۔ اب ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی پرسخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے پوری پارٹی پرسوالات اٹھائے اورکئی الزامات لگائے۔ پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے کہا، ”مسئلہ بدھوڑی کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بی جے پی نے ایک ماحولیاتی نظام بنایا ہے، جہاں انہوں نے ایسی باتیں کھل کرکہنا معمول بنا دیا ہے۔ لوگوں نے بی جے پی کا اصل رنگ دیکھ لیا ہے۔ وہ اس بات پرشرمندہ ہیں کہ اقلیتی مسلم طبقے کوایوان میں نفرت انگیزتقریرکا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہیں خوشی ہے کہ بی جے پی کا اصل رنگ بے نقاب ہوگیا ہے۔

بدھوڑی نے دانش علی پرکیا متنازعہ اورنازیبا تبصرہ

ایوان میں بحث کے دوران جنوبی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے پارلیمنٹ میں ہی بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف توہین آمیزالفاظ کا استعمال کیا۔ یہ ویڈیو سنسد ٹی وی کے یوٹیوب چینل پربھی اپلوڈ کردیا گیا تھا، تنازعہ ہونے کے بعد اسے وہاں سے ہٹایا گیا اورلوک سبھا کے ریکارڈ سے بھی ہٹا دیا گیا۔ کنوردانش علی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کوایک خط لکھ کررمیش بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگروہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ ممبرپارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے پرغورکرسکتے ہیں۔

رمیش بدھوڑی کا سیاسی سفر

رمیش بدھوڑی بنیادی طورپردہلی کے رہنے والے ہیں۔ وہ بی کام، ایل ایل بی پاس ہیں۔ آرایس ایس کے سرگرم رکن رہے۔ سیاسی کیریئرکی شروعات اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے جڑ کرکی۔ وہ تین باردہلی کے تغلق آباد اسمبلی سیٹ سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ سال 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے ٹکٹ پرجنوبی دہلی لوک سبھا سیٹ سے امیدواربنائے گئے اورجیت درج کی۔ سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی رمیش بدھوڑی نے کامیابی اس سیٹ سے کامیابی حاصل کی ہے اوروہ دوسری بار رکن پارلیمنٹ ہیں۔

 کنوردانش علی کے دادا بھی رہ چکے ہیں رکن پارلیمنٹ

کنوردانش علی یوپی کے امروہہ لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ وہ سال 2019 میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ٹکٹ پرالیکشن میں امیدواربنائے گئے تھے اوربی جے پی کے کنورتنورسنگھ کو 63 ہزارسے زیادہ ووٹوں سے ہرایا تھا۔ دانش علی کے دادا محمود علی رکن اسمبلی اور1977 میں ہاپوڑ سیٹ سے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ ہاپوڑمیں پیدا ہوئے کنور دانش علی نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ایس سی (آنرس) اورایم اے (پولیٹیکل سائنس) کی تعلیم حاصل کی ہے۔

 

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Supreme Court: بلا ٹھوس وجہ استعفیٰ دینے والے ارکان اسمبلی سے ضمنی انتخاب کا خرچ وصول کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ کا نوٹس

’انتخابی اخراجات کی ضمانت‘ کا نظام شروع کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔…

44 minutes ago

Saudi Arabia bows to the Houthis: حوثیوں کے سامنے سعودی عرب نے گھٹنے ٹیک دیے؟ جنگ روکنے کے لیے 1 بلین ڈالر کی پیشکش

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی اور لیکٹنسٹین کے شہزادے الوئس کی حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم…

2 hours ago

Iran Restarts Nuclear and Missile Program: ایران نے جوہری اور میزائل پروگرام پھر کیا شروع ، سابق امریکی جنرل کی وارننگ

سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں…

3 hours ago

MLC Election Result: اتر پردیش، بہار سمیت 4 ریاستوں میں آج انتخابی نتائج، کس کے سر سجے گا جیت کا تاج؟

اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت…

4 hours ago