قومی

Ram Mandir donation theft case: رام مندرچندہ چوری معاملہ، سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے کیا انکار

نئی دہلی :ایودھیا کے رام مندر کے چندے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ  سپریم کورٹ نے اس معاملے کی فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار سے سوال کیا کہ اس کیس میں ایسی کون سی ہنگامی صورتحال ہے جس کے باعث فوری سماعت ضروری ہے۔عدالت نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد عدالت کھلنے پر اس معاملے کی سماعت کی جائے گی، یعنی اب اس کیس پر 12 جولائی کے بعد ہی سماعت متوقع ہے۔

ایف آئی آر اور سی بی آئی کی نگرانی میں ایس آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

وکیل اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو کی جانب سے دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے اور سی بی آئی کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے، جو شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات کی تحقیقات کرے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی نے کسی ایف آئی آر یا فوجداری مقدمہ درج کیے بغیر ہی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔واضح رہے کہ 13 جون کو رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے الزامات سامنے آنے کے بعد اتر پردیش حکومت نے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس نے 23 جون کو اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی۔

درخواست گزار نے کیا مؤقف اختیار کیا؟

درخواست گزار نے رام جنم بھومی ٹرسٹ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ انتہائی حساس ہے، اس لیے جلد سماعت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کا رویہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جبکہ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ بھی موجود ہے، اسی وجہ سے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست میں ایسی کوئی غیر معمولی وجہ پیش نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر فوری سماعت کی جائے۔

چمپت رائے کا بیان بھی ریکارڈ

دوسری جانب اے این آئی کے مطابق، پیر 29 جون کو پولیس نے رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کی تحقیقات کے سلسلے میں شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا بیان ریکارڈ کیا۔ذرائع کے مطابق چمپت رائے سے پوچھ گچھ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ٹرسٹ کے دیگر سینئر عہدیداروں، جن میں انیل مشرا بھی شامل ہیں، کے بیانات بھی بعد میں قلم بند کیے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

1 minute ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

38 minutes ago

LEARN FROM THE WORLD BUT DESIGN FOR INDIA: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے ڈیزائن کریں“

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…

3 hours ago