قومی

Adani Case: امریکی جج نے وضاحت طلب کی، قانونی ماہرین کا مؤقف: الزامات واپس لینے کا عمل رہے گا جاری

امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفیس نے امریکی محکمہ انصاف (DoJ) کو ہدایت دی ہے کہ وہ گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات واپس لینے کے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلی معلومات عدالت میں پیش کرے۔تاہم امریکی وکیل بینجمن اے جیانفورٹی کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے اضافی وضاحت طلب کرنا ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے اور اس سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ مقدمہ دوبارہ پوری طرح چلایا جائے گا۔

عدالت کی منظوری قانونی طور پر ضروری

جیانفورٹی نے بتایا کہ فیڈرل رولز آف کریمنل پروسیجر کے رول 48(a) کے تحت حکومت کو فردِ جرم (Indictment) واپس لینے سے قبل عدالت سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ان کے مطابق اس قانون کا مقصد جج کو یہ تفتیش کا اختیار دینا ہے کہ آیا حکومت نے مقدمہ واپس لینے کی درخواست کسی جائز اور قانونی مقصد کے تحت دی ہے یا نہیں۔

جج محکمہ انصاف کے فیصلے کی جگہ اپنا فیصلہ نہیں دے سکتے

جیانفورٹی نے واضح کیا کہ جج استغاثہ (Prosecution) کے فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کر سکتے اور نہ ہی محکمہ انصاف کے فیصلے کی جگہ اپنا فیصلہ نافذ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت صرف یہ اطمینان کرتی ہے کہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست نیک نیتی کے ساتھ دی گئی ہے اور اس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔

اضافی معلومات طلب کرنا جج کا اختیار

ماہر قانون کے مطابق جج گاروفیس کو اضافی معلومات طلب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ محکمہ انصاف نے اپنی ابتدائی درخواست میں بہت محدود تفصیلات فراہم کی تھیں۔

درخواست مسترد ہونے کا امکان بہت کم

اس سوال پر کہ آیا جج محکمہ انصاف کی درخواست مسترد کر سکتے ہیں، جیانفورٹی نے کہا کہ نظریاتی طور پر ایسا ممکن ضرور ہے، لیکن عملی طور پر ایسے واقعات انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ابتدائی مرحلے میں درخواست مسترد بھی ہو جائے، تب بھی استغاثہ مقدمے کو آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر مقدمہ بند ہو جائے گا۔

13 جولائی سے پہلے تفصیلی جواب جمع کرائے جانے کی توقع

جیانفورٹی کو توقع ہے کہ محکمہ انصاف 13 جولائی کی مقررہ مدت سے پہلے عدالت میں ایک تفصیلی خط جمع کرائے گا، جس میں مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کی وجوہات بیان کی جائیں گی۔ان کے مطابق ممکن ہے کہ اس جواب میں 24 جون کو دفاعی فریق کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور حکومت کے اپنے قانونی تجزیے کا بھی حوالہ شامل ہو، جس کے بعد عدالت مقدمہ باضابطہ طور پر خارج کرنے کے معاملے پر غور کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Akhilesh Yadav PDA Rath Yatra: رائے بریلی سے اکھلیش نے نکالی پی ڈی اے رتھ یاترا، سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کی تازہ صورتحال

2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…

1 hour ago

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

4 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

5 hours ago