اپنی کامیڈی سے مسکراتے چہروں کو ہنسانے والے راجپال یادو کی اصل زندگی اس وقت شدید مشکلات سے گزر رہی ہے۔ تقریباً 16 سال پرانا قرض اور چیک باؤنس کا معاملہ ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے، جس کے باعث انہیں ایک بار پھر تہاڑ جیل کی ہوا کھانی پڑ رہی ہے۔ 9 کروڑ روپے کے اس بھاری بھرکم تنازع میں راجپال نے 5 فروری کو دہلی کی عدالت میں سرینڈر کیا تھا۔ اب خبر ہے کہ 16 فروری کو ان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہونی ہے۔
ہائی کورٹ کی سخت سرزنش اور قانونی پیچیدگیاں
12 فروری کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں راجپال یادو کو راحت کی امید تھی، لیکن دہلی ہائی کورٹ کا رویہ کافی سخت رہا۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ راجپال جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ انہوں نے عدالت سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ عدالت نے اداکار اور ان کے وکیل دونوں کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 16 برسوں میں درجنوں مرتبہ قرض چکانے کے لیے وقت مانگا گیا، مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ راجپال کے وکیل نے گھر میں شادی اور دیگر تقریبات کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی تھی، جس پر آج فیصلہ سنایا جانا ہے۔
کہاں سے شروع ہوا سارا تنازع؟
اس پوری پریشانی کی جڑ سال 2010 میں ہے، جب راجپال یادو نے بطور ہدایت کار فلم ‘اتا پتا لاپتا’ بنائی۔ اس فلم کے لیے انہوں نے ‘مرلی پروجیکٹس’ نامی کمپنی سے 5 کروڑ روپے بطور قرض لیے تھے۔ معاہدے کے مطابق انہیں منافع کے ساتھ 8 کروڑ روپے واپس کرنے تھے۔ فلم 2012 میں ریلیز ہوئی، لیکن باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی۔ اس کے بعد قرض کا بوجھ بڑھتا گیا اور چیک باؤنس ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ راجپال اس سے قبل 2018 میں بھی تین ماہ جیل کاٹ چکے ہیں۔
بالی ووڈ کا ساتھ
جب راجپال یادو نے سرینڈر سے قبل جذباتی انداز میں کہا تھا کہ ان کے پاس اب پیسے باقی نہیں رہے، تو فلم انڈسٹری ان کے حق میں سامنے آگئی۔ سب سے پہلے سونو سود نے مدد کا ہاتھ بڑھایا اور اپنی فلم میں انہیں سائن کر کے سائننگ اماؤنٹ دیا۔ اس کے بعد سلمان خان، اجے دیوگن، ورون دھون اور گرو رندھاوا جیسے بڑے ستاروں نے بھی مالی تعاون کیا۔ راجپال کی اہلیہ رادھا یادو نے بھی تصدیق کی کہ فلم انڈسٹری اور مداحوں کی جانب سے انہیں بھرپور حمایت اور محبت مل رہی ہے۔
جائیداد کی نیلامی اور مالی بحران
راجپال کی مشکلات صرف جیل تک محدود نہیں ہیں۔ قرض ادا نہ کر پانے کے باعث ان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد پہلے ہی ضبط ہو چکی ہے۔ سال 2005 میں انہوں نے اپنے والدین کے نام پر ایک پروڈکشن ہاؤس شروع کیا تھا، جس کے لیے لیا گیا قرض ادا نہ کرنے پر بینک نے ان کی جائیداد اٹیچ کر دی۔ رپورٹس کے مطابق ان پر مجموعی قرض تقریباً 11 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اب سب کی نظریں آج کی سماعت پر مرکوز ہیں کہ آیا عدالت انہیں خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے راحت دیتی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…