نئی دہلی/ناتھولا: وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کو سکم میں ناتھولا پاس کے قریب واقع شیراتھانگ وار میموریل پر ہندوستانی فوج کے اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر انہوں نے فوجیوں کے نظم و ضبط، لگن اور قربانیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سرحدوں پر ان کی موجودگی کی بدولت شہری تہوار منا پاتے ہیں اور سکون کی نیند سوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی جوانوں کی وجہ سے گھروں میں روشن کیے جانے والے دیوالی کے دیے مزید روشن نظر آتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے دیوالی کے مبارک موقع پر فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کی اور شیراتھانگ وار میموریل پر یاد کیے جانے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے پہلے میں آپ سبھی کو اور آپ کے اہل خانہ کو دیوالی کی مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ میں شیراتھانگ وار میموریل کے ان شہیدوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہماری خاطر اپنی جانیں قربان کی ہیں۔‘‘
جوانوں کی قربانیوں سے روشن ہوتی ہے دیوالی
وزیردفاع نے کہا کہ آج ملک کے گھروں میں دیوالی کے جو چراغ روشن کیے جا رہے ہیں، ان کے پیچھے بہادر فوجیوں کی قربانیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار ملک اور اس کے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، اس لیے ان کے اہل خانہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے بلند و بالا مقام پر تعینات فوجیوں سے ملاقات کے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر موجود گرم جوشی، توانائی اور جوش و جذبے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں آپ کے چہروں، آپ کے جوش اور جذبے کو دیکھ کر فخر محسوس کرتا ہوں۔ میرے لیے دیوالی سب سے بڑا تہوار ہے۔‘‘ انہوں نے فوجیوں کو ایک چراغ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی روشنی صرف شیراتھانگ وار میموریل تک محدود نہیں بلکہ ملک کے ہر گھر تک پہنچتی ہے۔ ان کے مطابق فوجی خاموشی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی پورے ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
نظم و ضبط فوج کی سب سے بڑی طاقت ہے
راجناتھ سنگھ نے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں میں نظم و ضبط نہ ہو تو جدید ٹیکنالوجی بھی بے کار ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کا نظم و ضبط ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کا طرزِ عمل، وردی، زبان اور تحمل مقامی لوگوں کے ذہنوں میں فوج کی ایک خاص شبیہ قائم کرتا ہے۔ شیراتھانگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مقامی لوگوں کے دلوں میں فوج کے لیے جو محبت اور احترام ہے، اسے برقرار رکھنا فوجیوں کی ذمہ داری ہے۔ وزیردفاع نے کہا ’’جس طرح دیوالی کا ایک چراغ بغیر شور کیے اندھیرے سے لڑتا ہے، اسی طرح آپ کی زندگی بھی ہے۔ آپ کوئی شور نہیں مچاتے، لیکن اپنی موجودگی سے پورے ملک کی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں۔ جب ملک تہوار مناتا ہے تو آپ سرحدوں پر نظر رکھتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے ملک کے شہری سکون کی نیند سوتے ہیں اور آپ ہی کی بدولت دیوالی کے دیے مزید روشن نظر آتے ہیں۔‘‘
شیراتھانگ وار میموریل قومی تاریخ کا اہم حصہ
راجناتھ سنگھ نے جنگی یادگاروں کی تاریخی اور قومی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی یادگاریں فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھتی ہیں اور ملک کے اجتماعی جذبے کو مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیراتھانگ وار میموریل نے ہندوستانی جوانوں کی بہادری کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ آنے والی نسلیں اس مقام پر پہنچ کر ان کی طاقت اور قربانیوں سے واقف ہوتی رہیں گی اور ان سے حوصلہ حاصل کریں گی۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ اس یادگار پر شہید ہونے والے فوجی ناگالینڈ، اتر پردیش، تمل ناڈو، راجستھان اور آسام سمیت ملک کی مختلف ریاستوں اور علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان جوانوں کی زبان، علاقے اور برادری الگ الگ تھی، لیکن سب کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی مادرِ وطن کی خدمت اور اس کے عوام کی حفاظت۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی روح اور اس کی تہذیب ہے کہ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص دوسرے ہندوستانیوں کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہے اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔
نیشنل وار میموریل میں 26 ہزار شہیدوں کے نام درج
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جنگی یادگاریں قومی شعور اور اجتماعی جذبے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایسی یادگاریں کسی تاریخی واقعے اور اس سے وابستہ لوگوں کی یاد کو زندہ رکھتی ہیں، ساتھ ہی قومی فخر کے احساس کو بھی بیدار کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یادگاریں مردوں کے لیے نہیں بلکہ زندہ لوگوں کے لیے بنائی جاتی ہیں، تاکہ وہ ان سے تحریک حاصل کرتے رہیں۔ وزیر دفاع نے دہلی کے نیشنل وار میموریل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تقریباً 26 ہزار شہیدوں کے نام سنہرے حروف میں ہمیشہ کے لیے درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی شہید کا خاندان، رشتہ دار، گاؤں یا علاقے کے لوگ نیشنل وار میموریل پہنچ کر پتھر پر اس کا نام درج دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں کئی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے ملک کے فوجیوں پر فخر محسوس ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی سے بڑھ کر ملک سے محبت کرنے کا جذبہ حاصل کرتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ نیشنل وار میموریل دیکھنے آنے والے عام شہریوں کے اندر بھی اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کا عزم پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ یادگار مستقبل کی نسلوں اور نوجوانوں کو اسی طرح تحریک دیتی رہے گی۔ وزیر دفاع نے فوجی اہلکاروں سے امید ظاہر کی کہ وہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جاپانی ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے…
وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں 1991 کے لوک سبھا انتخابات کی یادیں شیئر…
وزیر اعظم نے سلامتی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا…
صدر آئزک ہرزوگ نے یاشر پارٹی کے رہنما کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپی،…
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ کسانوں کی آنکھوں سے…
پولینڈ کے صدر کارول ناوروٹسکی نے اس بھیانک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے…