راجستھان کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے نام تبدیل کرنے کو لے کر شروع ہوا تنازع اب حکومت کے لیے مشکل بن گیا ہے۔ چاروں طرف سے تنقید اور والدین کے شدید احتجاج کے درمیان آخرکار محکمۂ تعلیم کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے ہیں۔ ‘بھارت ایکسپریس’ کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والے ہنگامے نے حکومت کو اس متنازع فیصلے کو فی الحال مؤخر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کیا تھا پورا معاملہ؟
دراصل، محکمۂ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کے اُن بچوں کے نام تبدیل کرنے کی تیاری کی تھی جو سننے میں ’عجیب‘ یا ’نامناسب‘ لگتے تھے۔ لیکن جب مجوزہ ناموں کی فہرست جاری کی گئی تو وہ مذاق کا باعث بن گئی۔ اس فہرست میں سنگین لاپرواہی سامنے آئی—لڑکوں کی فہرست میں لڑکیوں کے نام شامل کر دیے گئے تھے، جبکہ کئی تجاویز ایسی تھیں جو مستقبل میں طلبہ کو تمسخر کا نشانہ بنا سکتی تھیں۔
والدین اور سماجی تنظیموں نے اس پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کا نام اس کی شناخت اور ثقافت سے جڑا ہوتا ہے، جسے سرکاری حکم سے تبدیل کرنا نہ صرف غیر عملی ہے بلکہ بچوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یو ٹرن پر وزیرِ تعلیم کا مؤقف
ریاست بھر میں بڑھتی ناراضگی کے بعد محکمۂ تعلیم نے اس فیصلے کو مؤخر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ تاہم وزیرِ تعلیم مدن دلاور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس فیصلے کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا بلکہ فی الحال کے لیے ملتوی کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جس طرح اس منصوبے کی خامیاں سامنے آئی ہیں، اسے دوبارہ نافذ کرنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
پالیسی سازی پر اٹھتے سوالات
اس پورے معاملے نے حکومت کی کارکردگی اور پالیسی سازی کے طریقۂ کار پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بغیر ٹھوس تحقیق اور زمینی حقیقت کو سمجھے اتنا حساس فیصلہ لینا جلدبازی کو ظاہر کرتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نام بدلنے کے بجائے اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…