قومی

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیوسینا (UBT) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے ایک بار پھر ایک ساتھ نظر آنے والے ہیں۔ دونوں نے مہاراشٹر میں SIR یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف 4 اکتوبر کو احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں جماعتوں نے ریاست کے عوام سے بھی اس مارچ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ یہ اعلان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں کے درمیان مبینہ اختلافات کی خبروں کے درمیان کیا گیا ہے۔

راج ٹھاکرے نے کہا – ’ووٹروں کے ساتھ بڑا دھوکا‘

راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے احتجاجی مارچ کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج SIR کی آڑ میں ووٹروں کے ساتھ کیے گئے ’بڑے دھوکے‘ کے خلاف ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) اور ایم این ایس نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ مشترکہ بیان میں راج اور ادھو ٹھاکرے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت والے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے فائدے کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ SIR کے عمل کو ووٹروں کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ دونوں لیڈروں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں لوگوں سے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔

راج اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان برسوں سے سیاسی اختلافات رہے ہیں، لیکن حالیہ عرصے میں دونوں ایک بار پھر بعض معاملات پر ایک ساتھ نظر آئے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں دونوں جماعتوں نے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے اتحاد کیا تھا۔ اس دوران دونوں جماعتوں نے مشترکہ انتخابی منشور بھی جاری کیا تھا اور مراٹھی شناخت سے متعلق امور کو اپنی مہم کا حصہ بنایا تھا۔

الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی رپورٹ سے بڑھا تنازع

احتجاجی مارچ کا اعلان ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ طور پر اعتراض کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے عمل اور ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس پر مرکزی کنٹرول سے متعلق معاملات شامل تھے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ SIR سے متعلق تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے لیے گئے تھے۔ کمیشن کے مطابق اس عمل سے متعلق فیصلوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں تھا۔ 4 اکتوبر کو ہونے والا احتجاجی مارچ اب مہاراشٹر میں SIR کے معاملے پر سیاسی سرگرمی کا اہم مرکز بننے جا رہا ہے، جس میں ایم این ایس اور شیوسینا (یو بی ٹی) نے ریاست کے لوگوں سے شرکت کی اپیل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

9 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

9 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

9 hours ago