بہار کی فیکٹری میں بننے والا ریل انجن اب افریقی ملک گنی میں بھی تیزی سے چلے گا۔ یہ ریل انجن بہار کے سارن ضلع میں واقع مرہاورا فیکٹری میں بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ریپبلک آف گنی کے لیے بنے ریل انجن کو برآمد کی پہلی کھیپ کے طور پر ہری جھنڈی دکھائی۔ انھوں ورچوئلی سیوان کے جسولی سے اسے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ جمعہ کو پی ایم مودی نے ویشالی-دیوریا ریل لائن کا بھی افتتاح کیا، جس کی لاگت 400 کروڑ سے زیادہ ہے۔
انھوں نے پٹنہ-گورکھپور وندے بھارت ایکسپریس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جو مذہبی اور سماجی سفر کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ مرہاورا میں واقع ریل انجن فیکٹری نے اب تک ہندوستانی ریلوے کو 700 سے زیادہ انجن دیے ہیں۔ اس فیکٹری نے افریقی ممالک کے لیے 143 ریل انجنوں کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جن کی پہلی کھیپ جمعے کو گنی بھیجی گئی۔ اس ریل انجن کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔
افریقہ میں بھی ہونے والی ہے بہار کی ستائش
پی ایم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’بہار کے باصلاحیت نوجوان آج ہونے والے کام کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مرہاورا ریل فیکٹری اس کی ایک مثال ہے کہ این ڈی اے کس طرح کا بہار بنا رہی ہے۔ مرہاورا کی لوکوموٹو فیکٹری سے پہلا انجن افریقہ کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ افریقہ میں بھی بہار کی ستائش ہونے والی ہے۔ یہ کارخانہ اسی سارن ضلع میں بنایا گیا ہے، جسے پنجے اور آر جے ڈی والوں نے پس ماندہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا۔‘‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’اس ضلع نے دنیا کے مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کے نقشے پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ جنگل راج کے لوگوں نے بہار کے ترقیاتی انجن کو روک دیا تھا۔ اب بہار میں بننے والا انجن افریقہ کی ٹرینیں چلائے گا۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہار ’میڈ اِن انڈیا‘ کا بڑا مرکز بنے گا۔ یہاں سے تیار کردہ مکھانہ اور پھل اور سبزیاں بیرون ملک بھی پہنچیں گی۔ اور بہار کے نوجوانوں کے ذریعہ تیار کردہ سامان آتم نربھر بھارت کو مزید طاقت دے گا۔‘‘
بابا ہری ہر ناتھ کی زمین بابا گورکھ ناتھ کی زمین سے جڑی
پی ایم مودی نے کہا کہ ’’بہار میں جو جدید انفراسٹرکچر بنایا جا رہا ہے وہ بہت کارآمد ثابت ہوگا۔ بہار میں ہر طرح کے انفراسٹرکچر میں بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، چاہے وہ سڑک ہو، ریل ہو، ہوائی سفر ہو یا آبی گزرگاہ۔ بہار کو مسلسل نئی ٹرینیں مل رہی ہیں۔ یہاں وندے بھارت جیسی جدید ٹرینیں چل رہی ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا ’’ہم ایک اور بڑی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ ساون کے آغاز سے پہلے بابا ہری ہر ناتھ کی زمین کو بابا گورکھ ناتھ کی زمین سے وندے بھارت ٹرین سے جوڑ دیا گیا ہے۔ پٹنہ سے گورکھپور کی نئی وندے بھارت ٹرین پوروانچل کے شیو بھکتوں کے لیے ایک نئی سواری ہے۔ یہ ٹرین بھگوان بدھ کی تپو بھومی کو ان کی مہاپرنروان بھومی کشی نگر سے جوڑنے کا بھی ذریعہ ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔…
یو جی سی نیٹ دسمبر 2026 کے لیے آن لائن درخواست جمع کرنے کی آخری…
جیوری ممبران، پروفیسرریشماں پروین، ڈاکٹرعشرت ناہید، ڈاکٹرپروین شجاعت، ڈاکٹر شبنم رضوی اور ڈاکٹر موسیٰ رضا…
1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے شہیدوں کی یاد میں قائم ’آزادی کی پہلی لڑائی…
یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ریلی، کاکروچ جنتا پارٹی…
تھراڈ اور رادھن پور میں قائم ہوں گے نئے پلانٹس، روزانہ 175 میٹرک ٹن گوبر…