نئی دہلی: کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے دہلی میں واقع اندرا بھون میں یوتھ کانگریس، این ایس یو آئی اور سیوا دل کے کارکنوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ اس دوران راہل گاندھی نے کارکنوں کو طویل جدوجہد کے لیے پوری طرح تیار رہنے کا پیغام دیا۔اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا شامل ہوئے۔ انہوں نے زمینی سطح پر جدوجہد کرنے والے کارکنوں سے خصوصی گفتگو کی۔راہل گاندھی نے پولیس کارروائی، لاٹھی چارج اور جیل کی سزا کا سامنا کرنے والے کارکنوں کے حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پوری پارٹی مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’مجھے دیکھو، آپ کو ڈرنا نہیں ہے اور ایف آئی آر سے گھبرانا بھی نہیں ہے۔
ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے کی مہم جاری رکھنی ہے: راہل گاندھی
میٹنگ میں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے نوجوانوں کے آئینی حقوق سے متعلق مسائل مسلسل اٹھائے جاتے رہیں گے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر حال ہی میں ہونے والے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ’’میں نے ایک سال پہلے آپ سے کہا تھا کہ جلد ہی مودی شاہ کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے ہوں گے۔ دیکھیے، اب دہلی میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ کی مہم جاری رکھنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو وزیر اعظم خود باہر آکر مظاہرہ کرنے والے لوگوں اور اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کرتے۔
کارکنوں کو ببر شیر قرار دیا
میٹنگ کے دوران راہل گاندھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لے کر بھی جارحانہ انداز میں نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ ملک کی نوجوان نسل اور مستقبل کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کارکنوں کو ’ببر شیر‘ قرار دیا۔انہوں نے این ایس یو آئی کارکنوں کی پٹی بندھی انگلیوں کے ذریعے کیے گئے علامتی احتجاج اور یوتھ کانگریس کے ’گھوسٹ پروٹیسٹ‘ جیسے منفرد طریقوں کی بھی بھرپور تعریف کی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے کارکنوں سے یہ بھی پوچھا کہ بسوں کی نقل و حرکت اور حراست کے دوران کن کن طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ وہیں، پرینکا گاندھی نے جیل جانے والے کارکنوں کی خیریت دریافت کی اور پوچھا، ’’جیل کی ہوا کیسی تھی؟‘‘
پیر میں فریکچر کا سامنا کرنے والے کارکن نے سنایا اپنا تجربہ
میٹنگ میں گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاجی مظاہروں میں سب سے آگے رہنے والے کئی کارکنوں کو ان کے نام سے پکارا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران دائیں ٹانگ میں فریکچر کا شکار ہونے والے آکاش نے اپنا تجربہ بیان کیا۔انہوں نے بتایا،لی میریڈین سرکل کے قریب مجھے بری طرح پیٹا جا رہا تھا۔ بہت سے پولیس اہلکار میرے اوپر تھے۔ میں نے بھائی (راہل گاندھی) کی کارگو پینٹ اور جوتے پہچان لیے اور کہا کہ ہاں، یہ راہل گاندھی ہیں۔ میں نے انہیں آواز دی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بچایا۔ میری جان بچ گئی۔یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب، جن کے خلاف دو درجن سے زیادہ ایف آئی آر درج ہیں، نے کہا کہ یہ ایف آئی آر ان کے لیے کسی تمغے سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی وقت ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
مودی حکومت کے پاس صرف 8 سے 9 ماہ باقی ہیں
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے پاس اب صرف 8 سے 9 ماہ باقی ہیں اور یہ حکومت اس سے آگے نہیں چل پائے گی۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک دن پہلے ہی راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ چائے پر ملاقات کی تھی۔راہل گاندھی کی اس پاٹھ شالا جیسی گفتگو کا پیغام بالکل واضح تھا: محاذ پر ڈٹے رہیں، احتجاج کے نئے طریقے اپنائیں، جدوجہد کے لیے تیار رہیں اور اس طویل لڑائی میں اپنی پوری طاقت جھونک دیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بدھ کو کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی…
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو…
صدر زیلنسکی نے ایمانوئل میکرون کے ساتھ بات چیت کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے…
انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…
کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…
ہندوستانی کپتان کی توجہ فی الحال ٹیم کے لیے نئے معیار قائم کرنے پر ہے۔…