لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مرکزی حکومت پر شدید الزامات عائد کیے۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر مبینہ اختلافِ رائے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ انتخابات میں ووٹوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ملک کی سیاست دیکھ رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کو اقتدار مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں اقتدار مخالف رجحان ختم نہیں ہوسکتا، لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان میں ایسا انتخابی عمل کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
’ووٹ چوری کا مطلب آئین پر حملہ‘
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے کئی اسمبلی انتخابات میں ووٹوں میں ہیر پھیر کی گئی۔ انہوں نے مہاراشٹر اور ہریانہ کے انتخابات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ووٹ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ صرف انتخابی عمل کا معاملہ نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حق سے جڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ ہی آئین کی بنیاد ہے، اسی کے ذریعے عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور پھر قانون اور ادارے وجود میں آتے ہیں۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اگر ووٹ کا حق کمزور ہوتا ہے تو اس کا اثر جمہوری اداروں پر بھی پڑتا ہے۔
گیانیش کمار پر کیا الزام لگایا؟
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ان کی تقرری کے عمل پر انہوں نے پہلے بھی اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی کمیشن کے موجودہ کام کاج سے انتخابی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس ووٹوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ سے متعلق ثبوت موجود ہیں اور وہ آنے والے تقریباً 6 ماہ کے دوران انہیں عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق یہ ثبوت انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تصویر واضح کریں گے۔
انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے کا حوالہ
کانگریس لیڈر نے انتخابی کمیشن کے دو دیگر ارکان کی جانب سے بعض معاملات پر اختلافِ رائے کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا۔ یہ معاملہ ایک رپورٹ کے بعد سیاسی بحث کا موضوع بنا ہے، جس کے مطابق انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ میں کم از کم 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور اقدامات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم انتخابی کمیشن نے ان اختلافات کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف آرا اور تبصرے ادارہ جاتی غور و خوض کا حصہ ہوتے ہیں اور کمیشن کے حتمی فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے کیے گئے ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کے اندر اختلافِ رائے جمہوری طریقۂ کار کا حصہ ہے۔
’6 ماہ میں سب کچھ سامنے آ جائے گا‘
پریس کانفرنس کے اختتام پر راہل گاندھی نے ایک بار پھر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق انتخابی نظام میں جو کچھ ہوا ہے اس کی مکمل حقیقت آئندہ 6 ماہ میں ثبوت کے ساتھ عوام کے سامنے آجائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ووٹوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے ذریعے منتخب نمائندے پارلیمنٹ پہنچتے ہیں تو ان کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ یہ تمام الزامات راہل گاندھی اور کانگریس کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل اور اپنے فیصلوں کا دفاع کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…