ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ مہوا موئترا نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے حالیہ فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بعض فیصلے تین رکنی کمیشن کے تمام ارکان کی رضامندی کے بغیر کیے گئے۔ مہوا موئترا نے گیانیش کمار کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے اور ان پر مبینہ طور پر ’مجرمانہ طرزِ عمل‘ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انتخابی کمیشن میں ہونے والی اندرونی اختلافِ رائے سے متعلق حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراض کیا تھا۔
فیصلوں میں اختلافِ رائے کا معاملہ کیا ہے؟
مہوا موئترا نے انتخابی کمشنروں کی تقرری، سروس شرائط اور مدتِ کار سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی تحفظ سے متعلق شق کو انتخابی کمیشن کے اجتماعی طور پر کام کرنے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ کمیشن کے بعض اقدامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن، نام حذف کرنے، ووٹر فہرست کے اعداد و شمار تک رسائی اور فارم 6 میں تبدیلی جیسے معاملات شامل تھے۔ الیکشن کمیشن نے تاہم کہا ہے کہ اندرونی نوٹس اور تجاویز ادارہ جاتی غور و خوض کا حصہ ہیں اور گزشتہ ایک سال کے تمام حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔
فارم 6 میں تبدیلی پر بھی سوال
مہوا موئترا نے نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں سوال شامل کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے حوالے سے دونوں انتخابی کمشنروں نے اعتراض کیا تھا۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق فارم 6 میں خصوصی نظرثانی سے متعلق ایک نیا اعلامیہ شامل کیا گیا تھا، جس میں درخواست دہندگان سے ان کے یا والدین و دادا دادی کے سابقہ انتخابی فہرست میں نام سے متعلق معلومات مانگی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں انتخابی کمشنروں نے رائے دی تھی کہ قانونی طور پر مقررہ فارم میں تبدیلی کے لیے متعلقہ قواعد میں ترمیم ضروری ہے۔ مہوا موئترا نے انتخابی فہرستوں کے مرکزی معلوماتی نظام اور مقامی انتخابی افسران کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی رجسٹریشن افسران اور بوتھ سطح کے افسران کو ضروری معلومات اور نظام تک مکمل رسائی نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے ووٹر فہرست کے انتظام میں بے ضابطگی کا امکان پیدا ہوا۔
مغربی بنگال کی ووٹر فہرست کا بھی حوالہ
مہوا موئترا نے مغربی بنگال کی انتخابی فہرست سے متعلق اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ خصوصی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام سے متعلق اعتراضات اور اپیلیں سامنے آئیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مغربی بنگال میں خصوصی نظرثانی کے دوران 27.16 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے تھے، جن میں سے 22 لاکھ سے زیادہ افراد نے دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے اپیلیں دائر کیں۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا ہے کہ مجموعی طور پر 38.31 لاکھ اپیلیں دائر ہوئی تھیں۔ مہوا موئترا نے انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹر فہرست پر اعتماد کو جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کے الزامات اور مطالبات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے ادارہ جاتی مؤقف کو بھی اس معاملے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…