نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ 2 اپریل 2018 کو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (ایس سی/ایس ٹی) ایکٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے دلت اور آدیواسی نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرے ایک ایسے عدالتی فیصلے کے خلاف ہوئے تھے جس نے اس قانون کو کمزور کر دیا تھا۔
احتجاج کا پس منظر اور جانی نقصان
راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ 2 اپریل 2018 کے احتجاج محض ایک وقتی ردعمل نہیں تھے بلکہ یہ دلتوں اور آدیواسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیاز اور تشدد کے خلاف ایک وسیع تر بے چینی کی عکاسی کرتے تھے۔ انہوں نے اس دن پیش آئے المناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج کے دوران 14 دلت نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو ایک افسوسناک سانحہ تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مظاہرین نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے انصاف، مساوات اور وقار کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ایسے میں ان کے خلاف کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے حکومت سے ہمدردانہ رویہ اپنانے کی اپیل کی۔
نوجوانوں پر مقدمات اور مستقبل پر اثرات
راہل گاندھی نے کہا کہ احتجاج کے بعد بڑی تعداد میں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور آج بھی وہ مختلف فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ان میں سے کئی نوجوان اپنے خاندان میں پہلی نسل کے تعلیم حاصل کرنے والے ہیں، اور ان مقدمات کی وجہ سے ان کی تعلیم، روزگار اور مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو یا تو ختم کیا جائے یا واپس لیا جائے تاکہ ان نوجوانوں کو طویل قانونی کارروائیوں کے بوجھ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔
قانونی و آئینی تناظر اور اپیل
راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جو آئینی اقدار، سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں پر قائم ہے، یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ تاریخی طور پر محروم طبقات کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو راحت دینا دراصل ملک کے آئینی وعدوں کی تکمیل ہوگی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت فوری گرفتاریوں پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ بعد میں حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم کر کے اس قانون کو اس کی اصل سختی کے ساتھ بحال کر دیا تھا، اور عدالت نے بھی بعد میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے قانون کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ راہل گاندھی نے اپنے خط کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور متاثرہ نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے فوری قدم اٹھائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…
روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…
موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…
وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان اپنے دفاع کے حق کا…
اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…