نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے آج بدھ کے روزایوان (لوک سبھا) میں تقریرکی۔ انہوں نے طویل بحث کے بعد ایوان سے خطاب کیا۔ راہل گاندھی نے نہ صرف امریکہ کو نشانہ بنایا بلکہ مرکزکی مودی حکومت پربھی حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے امریکہ کے دباؤمیں تجارتی معاہدے پردستخط کئے ہیں اوراگرہندوستان نے اس کی تعمیل کرنے سے انکارکیا تووہ دوبارہ محصولات میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، ہندوستان کے ڈیٹا پرنظریں جمائے ہوئے ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارا ڈیٹا بیچا گیا، کسانوں کوبیچ دیا گیا۔ پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجونے راہل گاندھی کوجواب دیتے ہوئے کہا کہ آج تک کوئی مائی کا لال ایسا پیدا نہیں ہوا، جواس ملک کوبیچ دے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جوکہتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کانگریس ہمیشہ ملک کوکمزورکرنا چاہتی ہے۔
کرن رجیجونے کہا کہ ایوان کے میزپرمیں نے راہل گاندھی سے ان کے دعووں سے متعلق ضروری ثبوت فراہم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے حکومت اور وزیراعظم کے خلاف بے بنیاد اورگمراہ کن الزامات لگائے اور یہ دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے بغیرکسی حقیقت کے ہندوستان کے قومی مفادات کوفروخت کردیا ہے۔ دوسرا، انہوں نے ہردیپ سنگھ پوری کا نام لیا اوران کے خلاف سنگین اوربے بنیاد الزامات لگائے۔ یہ استحقاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس لئے میں اسپیکر کے سامنے ضروری نوٹس داخل کرنا چاہتا ہوں۔
راہل گاندھی نے کیا کہا؟
اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے کہا کہ اگرانڈیا الائنس امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کررہا ہوتا، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم کیا کرتے۔ سب سے پہلے ہم صدر ٹرمپ سے کہتے، اس مساوات کا سب سے اہم حصہ انڈین ڈیٹا ہے۔ آپ اپنا ڈالربچانا چاہتے ہیں؟ ہم آپ کے دوست ہیں۔ ہم آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہم آپ کے ڈالر کو بچانے میں آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن پلیزیاد رکھیں کہ اگرآپ اپنا ڈالربچانا چاہتے ہیں توسب سے بڑی ایسیٹ جوآپ کے ڈالرکو بچاسکتی ہے، وہ انڈین لوگوں کے پاس ہے۔
ہمیں پاکستان کے برابرنہیں بنایا جائے گا: راہل گاندھی
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے برابرنہیں بنایا جائے گا۔ اگرصدرٹرمپ نے طے کیا ہے کہ پاکستان آرمی چیف ان کے ساتھ ناشتہ کریں گے تو ہمیں اس بارے میں کچھ کہنا ہوگا۔ اب کیا ہوا ہے؟ آپ نے ایک ٹریڈ ڈیل کی ہے، جو چیز 21ویں صدی میں انڈیا کوبدلنے والی ہے، جوچیزہمیں 21ویں صدی میں سپرپاوربنانے والی ہے، مودی حکومت نے ہمارے ڈیٹا کے ساتھ یہی کیا ہے۔ ہم اپنے ڈیجیٹل ٹریڈ رولس پرکنٹرول چھوڑدیتے ہیں۔ نمبر2، ڈیٹا لوکلائزیشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نمبر تین، یونائیٹیڈ اسٹیٹس میں فری ڈیٹا فلو۔ نمبر4، ڈیجیٹل ٹیکس پرلمٹ، نمبر5 کسی بھی سورس کوڈ کوڈسکلوزکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جوکوئی بھی چاہے، بڑی ٹیکس کمپنی کو 20 سال کی فری ٹیکس ہالی ڈے۔ آپ نے ڈیٹا پر یہی کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئی آئی ٹیین بابا ابھے سنگھ گریوال ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، لیکن اس…
سرجری کے دوران جانچے گئے بافتوں سے پہلے کیے گئے ٹیسٹوں کی بنیاد پر لگائے…
دہلی کے لاجپت نگر کے ایک دکاندار نے کہا کہ یو پی آئی لین دین…
طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد جے پور ہوائی اڈے پر افرا تفری کا ماحول…
سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب…
موڈیز کے تخمینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اثرات…