قومی

Rahul Gandhi slams Election Commission: الیکشن کمیشن ہے یا بی جے پی کا ووٹ چوری سیل؟ راہل گاندھی کا شدید حملہ، بہار میں دھاندلی کا الزام

نئی دہلی:  کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے بہار میں مبینہ ووٹر فراڈ کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے حق میں کام کرتے ہوئے الیکشن کمیشن جمہوری عمل کی چوری میں ملوث ہے اور اب الیکشن کمیشن نہیں بلکہ الیکشن تھیف برانچ بن چکا ہے۔

ایس آئی آر کے نام پر ووٹ چوری

راہل گاندھی نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں کو ووٹروں کی اجازت کے بغیر فارم بھرنے اور دستخط کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ بہار میں الیکشن کمیشن کو ’ایس آئی آر‘ کے نام پر ووٹ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ ان کا کام بس چوری ہے، نام ہے ایس آئی آرجو ان کا پردہ فاش کرے، اس پر ایف آئی آر آخر الیکشن کمیشن ہے یا بی جے پی کا الیکشن تھیف برانچ۔

شناخت کے لیے آدھار، راشن کارڈ بھی قابل قبول ہوں

راہل گاندھی کے اس بیان سے چند دن پہلے، 10 جولائی کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو خصوصی ووٹر فہرست نظرثانی (SIR)  کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، اور مشورہ دیا تھا کہ ووٹر کی شناخت کے لیے آدھار، راشن کارڈ، یا ووٹر آئی ڈی کارڈ جیسے دستاویزات کو قابل قبول سمجھا جائے۔ عدالت نے کہا کہ ہماری ابتدائی رائے میں، انصاف کے تقاضے کے تحت الیکشن کمیشن کو دیگر شناختی دستاویزات بھی تسلیم کرنے چاہییں، اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کے جواز کی وضاحت فراہم کی جائے۔

بہار میں 80 فیصد فارم جمع، لیکن سوال برقرار

الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ بہار میں 80.11 فیصد ووٹروں نے اپنے فارم جمع کرا دیے ہیں، اور 25 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل اس عمل کو مکمل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ تاہم، راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بہار انتخابات کی تیاری، سیاسی ماحول گرم

بہار میں اسمبلی انتخابات رواں سال اکتوبر یا نومبر میں متوقع ہیں۔ اگرچہ تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، لیکن سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ این ڈی اے اتحاد (بی جے پی، جے ڈی یو، ایل جے پی) دوبارہ اقتدار میں واپسی کا ارادہ رکھتا ہے۔ انڈیا اتحاد ( آر جے ڈی، کانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں) وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ہٹانے کی مہم میں مصروف ہے۔

243 رکنی بہار اسمبلی کی صورتحال

بہار اسمبلی میں کل 243 ارکان اسمبلی ہیں جس میں سے این ڈی اے کے پاس 131 نشستیں (بی جے پی: 80، جے ڈی یو: 45، HAM(S): 4، آزاد: 2)، انڈیا بلاک کے پاس 111 نشستیں (آر جے ڈی: 77، کانگریس: 19، سی پی آئی(ایم ایل): 11، سی پی آئی/سی پی آئی ایم: 4) ہیں۔ راہل گاندھی کے الزامات نے بہار انتخابات سے پہلے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انتخابی نظام کو نہایت خاموشی کے ساتھ ہائی جیک کیا جا رہا ہے، جب کہ الیکشن کمیشن اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس بیانیے کو قبول کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Commonwealth Kabaddi Championship 2026: کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026، بھارتی مرد و خواتین ٹیموں نے نائجیریا کو بری طرح دی شکست

بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…

11 minutes ago

‘Lakhpati Didi’ Scheme: لکھ پتی دیدی اسکیم سے سنور رہی ہے دیہی خواتین کی زندگی، خود کفالت کی جانب بڑھ رہے قدم

مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…

14 minutes ago