نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر مرکز اور مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتوں پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسے بی جے پی ’’ڈبل انجن حکومت‘‘ کہتی ہے، وہ دراصل عام آدمی کے لیے تباہی کی رفتار بن چکی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق آج ملک میں اقتدار کا غرور، بدعنوانی اور وی آئی پی کلچر اس حد تک حاوی ہو چکا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری بیانات اور اپنے تبصروں میں واضح طور پر کہا کہ انصاف کے نام پر طاقتوروں کو بچانے کا کھیل مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سا ’’وی آئی پی‘‘ ہے جسے بچانے کے لیے حکومت پوری مشینری استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اصل مجرموں تک ہاتھ نہیں پہنچتا، تب تک ایسے سوال اٹھتے رہیں گے اور عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد کمزور ہوتا جائے گا۔
راہل گاندھی نے اتر پردیش کے بدنام زمانہ اناؤ معاملے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ کس طرح اقتدار کے نشے میں چور لوگ مجرموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان کو انصاف کے لیے طویل اور تکلیف دہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس ملک میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا پھر طاقتوروں کے لیے الگ اور کمزوروں کے لیے الگ پیمانے ہیں۔ بنیادی سہولتوں کی خستہ حالی پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں سے تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے اندور میں زہریلا پانی پینے سے ہونے والی اموات کا ذکر کیا اور کہا کہ دہلی، ہریانہ اور گجرات جیسے علاقوں میں بھی آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث لوگ بیماریوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ نظامی بدعنوانی کی عکاسی ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جب سرکاری اسپتالوں میں چوہوں کے کاٹنے سے نومولود بچوں کی جان چلی جاتی ہے یا ناقص کف سیرپ سے معصوم بچے مر جاتے ہیں تو اسے محض لاپرواہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدعنوانی اور ناقص نگرانی کا براہ راست نتیجہ ہے، جس کی ذمہ داری حکومت کو قبول کرنی چاہیے۔ ماحولیات اور ترقی کے نام پر ہو رہی مبینہ لوٹ پر حملہ بولتے ہوئے راہل گاندھی نے ’’کرونی کیپیٹلزم‘‘ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راجستھان کی اراولی پہاڑیوں سے لے کر ملک کے دیگر قدرتی وسائل تک، چند امیر صنعتکاروں کے فائدے کے لیے قوانین کو پامال کیا جا رہا ہے۔ جنگلات کا کٹاؤ اور پہاڑوں کی بے دریغ کھدائی ماحولیاتی تباہی اور قدرتی آفات کو جنم دے رہی ہے، جس کا خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
گاندھی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج پل گر رہے ہیں، سڑکیں دھنس رہی ہیں اور آئے دن ریل حادثات ہو رہے ہیں، لیکن حکومت کا ردعمل محض تصویری مواقع اور معاوضوں کے اعلانات تک محدود ہے۔ انہوں نے آخر میں زور دے کر کہا کہ موجودہ ڈبل انجن حکومت چند چنندہ صنعتکاروں کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ عام ہندوستانی کے لیے یہ ترقی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو روز اس کی زندگی کو مزید کچل رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…