قومی

Punjab put on high vigil: پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پنجاب میں ہائی الرٹ جاری، سیکورٹی سخت،فورسز کی گشتی اور نگرانی میں اضافہ

واہگہ بارڈر پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ پنجاب ہائی الرٹ پر ہے۔ 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں 26 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، پنجاب حکومت نے فوری طور پر اپنی سیکورٹی کو سخت کر دیاہے۔ اس حملے کی ذمہ داری دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نامی تنظیم نے قبول کی، جو پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممنوعہ گروپ لشکر طیبہ کا ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پنجاب کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حملے کے تناظر میں واہگہ بارڈر پر اٹاری چیک پوسٹ کو بند کر دیا گیا، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کا ایک اور اشارہ ہے۔

حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید کم کرنے کا اعلان کیا۔ 23 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے سیکورٹی (سی سی ایس) کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کے مبینہ تعلقات کو نشانہ بناتے ہوئے سخت اقدامات کی منظوری دی گئی۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث سات دہشت گردوں میں سے چار یا پانچ پاکستانی تھے، جو بائسران ویلی میں سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کے ذمہ دار تھے۔ اس کے جواب میں بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے اور اٹاری بارڈر پوسٹ کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پہلگام کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی، جبکہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے ایک بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ وہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو واپس لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ صوبہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ چنڈی گڑھ میں لوگوں نے حملے کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ سیکورٹی فورسز نے صوبے بھر میں گشت اور نگرانی بڑھا دی۔ پنجاب کی سرحدات جموں و کشمیر اور پاکستان دونوں سے ملتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے حساس علاقہ سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حملے کے بعد غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور لوگ دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق، 24 اپریل 2025 کی صبح تک سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے اور دیگر کے خلاف بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے لیے 10 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے 2 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 1 لاکھ روپے ایکس گریشیا کا اعلان کیا ہے۔ حملے کے بعد پہلگام میں سیاحت کو شدید دھچکا لگا، اور ہوٹلوں میں بکنگ منسوخ ہو رہی ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئر کو طلب کیا اور اس کے فوجی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا۔ عالمی برادری نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے، جس میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سوناک نے کہا کہ “دہشت گردی کبھی جیت نہیں سکتی”۔

اس واقعے نے بھارت کے اندرونی اور بیرونی سیکورٹی خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کشمیر میں امن اور معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ پہلگام سیاحتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ امرناتھ یاترا کا گیٹ وے بھی ہے۔ پنجاب میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کے علاوہ، دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی چوکنا بڑھا دی گئی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ایک کارپورل سمیت کئی متاثرین کے لواحقین غم سے نڈھال ہیں اور پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج (24 اپریل) کو نئی دہلی میں تمام جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں اس حملے کے بعد کی صورتحال اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ حملہ بھارت پاکستان تعلقات میں ایک نئے تناؤ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi Congratulates Indian Teams :چیس اولمپیاڈ میں سلور اور برونز میڈل جیتنے پر پی ایم مودی نے بھارتی ٹیم کو دی مبارکباد

میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…

1 hour ago

Cockroach Janata Party: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو آشوتوش رنکا کا چیلنج، کہا-ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے

آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…

3 hours ago