قومی

Punjab Poster War: ’ٹائیگر ابھی زندہ ہے!‘ پنجاب کی سیاست میں کیوں گونجا سلمان خان کا ڈائیلاگ؟ پوسٹر وار سے مچ گئی سیاسی ہلچل

پنجاب کی سیاست میں ایک بار پھر پوسٹر وار نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ شرومنی اکالی دل کے سینئر رہنما بکرم سنگھ مجیٹھیا کے حق اور مخالفت میں لگائے گئے پوسٹروں نے مجیٹھیا حلقے میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ حالیہ دنوں میں علاقے کے مختلف مقامات پر ’’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘‘ کے نعرے والے پوسٹر نمایاں طور پر آویزاں کیے گئے ہیں، جنہیں مجیٹھیا کے حامیوں کی جانب سے سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق چند روز قبل مجیٹھیا کو ’’مفرور‘‘ قرار دینے والے پوسٹر بھی علاقے میں لگائے گئے تھے، جس کے بعد ان کے حامیوں نے جوابی مہم شروع کرتے ہوئے ’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘ کے پوسٹر آویزاں کر دیے۔ اس پوسٹر وار کے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں بیان بازی کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

یہ تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب مجیٹھیا تھانے میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں بکرم سنگھ مجیٹھیا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اکالی دل کے کارکن جوبن پریت سنگھ کو حراست میں لیے جانے کے بعد انہیں چھڑوانے کی کوشش کے الزام میں مجیٹھیا کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ ایف آئی آر کے بعد پولیس ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔اس صورتحال کے درمیان مجیٹھیا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پوسٹروں کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ قانونی اور سیاسی دباؤ کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت برقرار ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ حامیوں کے مطابق مخالفین کی مہم سے ان کی سیاسی حیثیت متاثر نہیں ہوئی۔

علاقے میں بحث کا موضوع

دوسری جانب مخالف سیاسی جماعتوں نے ان پوسٹروں کو محض سیاسی دباؤ بنانے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں کا مقصد اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ فی الحال مجیٹھیا حلقے میں لگائے گئے یہ پوسٹر عوام اور سیاسی مبصرین کے درمیان موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی حلقے پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Dr Shams Iqbal: جام جہاں نما سے 2047 کے وژن تک! بھارت ایکسپریس کےبزمِ صحافت میں بولے ڈاکٹر شمس اقبال، ٹیکنالوجی ہی اردو کا مستقبل

ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…

26 minutes ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

1 hour ago