قومی

Priyanka Gandhi’s reaction: ہریانہ کے دلت آئی پی ایس افسر کی خودکشی پر سیاسی طوفان، دلتوں کے خلاف بڑھتے مظالم پر پرینکا گاندھی  نے بی جے پی کو بنایا نشانہ

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے ہریانہ میں ایک دلت آئی پی ایس افسر کی خودکشی کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا: ’’ہریانہ کے آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار کی ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک سے تنگ آ کر خودکشی پورے ملک کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔‘‘ پرینکا نے کہا کہ ملک بھر میں دلتوں کے خلاف ظلم و ناانصافی اور تشدد کا سلسلہ خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پہلے رائے بریلی میں ہری اوم والمیکی کا قتل، پھر چیف جسٹس کی بے عزتی، اور اب ایک سینئر افسر کی خودکشی — یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ بی جے پی کا دور دلتوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔‘‘

’اعلیٰ عہدوں پر فائز دلت بھی محفوظ نہیں‘

پرینکا گاندھی نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی عام شہری ہو یا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، اگر وہ دلت طبقے سے ہے تو اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جب اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے دلت افسران کے ساتھ یہ برتاؤ ہو رہا ہے تو عام دلت سماج کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔‘‘

بی جے پی پر منو وادی نظام نافذ کرنے کا الزام

اس معاملے پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ’’بی جے پی کا منو وادی نظام اس ملک کے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور کمزور طبقات کے لیے ایک بددعا بن چکا ہے۔‘‘ کھڑگے نے کہا کہ ہریانہ کے دلت آئی پی ایس افسر، اے ڈی جی پی وائی پورن کمار کی خودکشی نہ صرف افسوسناک بلکہ سماج میں پھیلے ظلم، غیر انسانی رویے اور بے حسی کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’پچھلے گیارہ برسوں میں بی جے پی نے ملک میں ذات پات پر مبنی ذہنیت کو اس حد تک گہرا کر دیا ہے کہ اب اے ڈی جی پی درجے کے دلت افسر کو بھی انصاف نہیں ملتا۔‘‘ کھڑگے نے الزام لگایا کہ اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر ذات پات کے نام پر حملہ ہوسکتا ہے، اور بی جے پی کا ایکو سسٹم اسے مذہب اور ذات کی آڑ میں بچاتا ہے، تو پھر وزیراعظم کا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔

’وزیراعظم کی خاموشی سب سے بڑا جرم ہے‘

پرینکا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’جب رائے بریلی کے ہری اوم والمیکی جیسے نہتے دلت کو ہجوم کے ہاتھوں بے رحمی سے قتل کیا جاتا ہے تو وزیراعظم ایک لفظ تک نہیں بولتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ صرف چند افسوسناک واقعات نہیں بلکہ اس ظالمانہ نظام کی علامت ہیں جسے بی جے پی اور آر ایس ایس نے پروان چڑھایا ہے۔

کانگریس کا مطالبہ: حکومت فوری کارروائی کرے

پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے دونوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دلتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم اور امتیازی رویوں پر فوری روک لگائیں، ورنہ یہ روش ملک کے جمہوری اور آئینی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Impeachment Notice Against CEC: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس: کیا ہے معاملہ؟

اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…

17 minutes ago

Pandit Deendayal Upadhyaya: ’انتودیہ اور ایکاتم مانوواد…‘ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا کہا؟

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…

1 hour ago