قومی

NEET Results: پرینکا گاندھی نے NEET کے نتائج میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا، کیا جانچ کا مطالبہ

نئی دہلی: کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعہ کے روز NEET 2024 کے نتائج میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا اور “جائز شکایات کو دور کرنے” کے لئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پرینکا گاندھی نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ کئی طرح کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

کانگریس لیڈر نے نتائج کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ کے خودکشی کرنے کی خبر پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “نتائج کے اعلان کے بعد ملک بھر سے کئی طلباء کے خودکشی کرنے کی خبریں آرہی ہیں، یہ انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔”

پرینکا نے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے میں مناسب کارروائی نہ کرنے پر انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا، “حکومت لاکھوں طلباء کی آوازوں کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟ طلباء NEET کے امتحان کے نتائج میں دھاندلی سے متعلق جائز سوالات کے جوابات چاہتے ہیں۔ کیا ان جائز شکایات کی تحقیقات اور حل کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟”

داخلہ امتحان کے نتائج جاری ہونے کے بعد کئی امیدواروں اور والدین نے بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے وضاحت طلب کر رہے ہیں کہ کس طرح ایک ہی مرکز کے 67 طلباء نے ٹاپ کیا۔

NEET میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ ہونی چاہئے: گہلوت

راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بھی قومی اہلیت داخلہ ٹیسٹ (NEET) میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گہلوت کے مطابق مرکزی حکومت اور این ٹی اے کو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور تحقیقات کرنی چاہئے اور ہر ایک کو انصاف یقینی بنانا چاہئے۔  گہلوت نے یہ مطالبہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے این ای ای ٹی امتحان میں بے ضابطگیوں اور نمبروں میں اضافے کے الزامات کے درمیان اٹھایا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر لکھا، “پہلے امیدواروں نے NEET امتحان اور اب اس کے نتائج سے متعلق بے ضابطگیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ نتائج میں اس طرح کی بہت سی باتیں سامنے آرہی ہیں، جن میں ایک ہی سنٹر سے پورے نمبر حاصل کرنے والے کئی بچے، قریب کے رول نمبر والے امیدواروں کا ٹاپ ہونا، جس سے امتحان میں بے ضابطگیوں کے شک کو تقویت ملتی ہے۔

گہلوت نے کہا کہ یہ لاکھوں بچوں کے مستقبل اور طبی پیشے کی ساکھ کا سوال ہے، اس لیے مرکزی حکومت اور این ٹی اے کو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کی تحقیقات کرنی چاہیے اور ہر ایک کو انصاف ملنا چاہیے۔

ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے این ٹی اے نے این سی ای آر ٹی کی نصابی کتاب میں تبدیلی کو ہائی اسکورنگ اور امتحانی مراکز میں ضائع ہونے والے وقت کے لیے رعایتی نمبروں کی فراہمی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

6 hours ago