نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کی صورتحال اس وقت نہایت تشویشناک ہے اور جاری کشیدگی کا اثر پوری دنیا کی معیشت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پارلیمنٹ کو بھی اس سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان بڑی مقدار میں خام تیل اور کھاد آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے، اس لیے حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ملک میں پٹرول اور ایل پی جی کی قلت پیدا نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے پیش نظر سپلائی کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم مودی نے واضح کیا کہ ایل پی جی کی گھریلو کھپت کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عام یوزر کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں توانائی کی پیداوار بڑھانے اور درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت 41 ممالک سے توانائی درآمد کر رہا ہے، جو اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی ایک خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
وزیر اعظم مودی کے مطابق ملک کے پاس اس وقت 53 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد خام تیل کا اسٹریٹجک ذخیرہ موجود ہے جبکہ اسے 65 لاکھ میٹرک ٹن تک بڑھانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ نہ صرف توانائی بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک اہم خطہ ہے، اور وہاں جاری تنازع عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے۔
وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ اس بحران کو تین ہفتوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس کے منفی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری اس مسئلے کے جلد حل کے لیے فریقین سے اپیل کر رہی ہے۔
وزیراعظم مودی نے بتایا کہ حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے والے کنٹرول رومز اور ہیلپ لائنز قائم کی ہیں، جو ملک اور بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کو فوری معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بحران کے دوران بھارتی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
کسانوں کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حکومت نے کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور گزشتہ 10 برسوں میں 6 یوریا پلانٹس قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرمیوں کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا، لیکن کوئلے کے ذخائر کافی ہیں اور تمام نظام کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بحران سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے…