اتر پردیش میں مسلسل بارش اور دریاؤں کی بڑھتی سطح آب کے باعث سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ریاست کے 23 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں، جبکہ پریاگ راج میں گنگا اور جمنا کی سطح آب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دونوں ندیاں خطرے کے نشان کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی کے میئر اور ضلع مجسٹریٹ سے فون پر بات کرکے صورتحال کی معلومات حاصل کی اور راحت و بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے وارانسی میں سیلاب کی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں جاری راحت و بچاؤ کارروائیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے انتظامیہ کو لوگوں کی حفاظت اور ضروری سہولیات کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔ گنگا کی سطح آب میں اضافے کے پیش نظر وارانسی سمیت مشرقی اتر پردیش کے کئی اضلاع میں انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں کو دریاؤں کی سطح آب اور متاثرہ علاقوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پریاگ راج میں 48 گھنٹوں کے دوران دو میٹر سے زیادہ اضافہ
پریاگ راج میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران گنگا اور جمنا کی سطح آب میں دو میٹر سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے باعث دونوں ندیاں خطرے کے نشان کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ منیش ورما کے مطابق گنگا اور جمنا کے ساتھ ٹونس ندی کی سطح آب بھی بڑھی ہوئی ہے۔ ٹونس میں پانی بڑھنے سے گنگا کا بہاؤ سست پڑ گیا ہے، جس کے نتیجے میں جھونسی علاقے کی بدرا-سونوٹی مرکزی سڑک مکمل طور پر زیر آب آگئی ہے۔ جمنا پار کے کوراؤں علاقے میں کئی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ راجاپور، الہاپور، چھوٹا باغاڑہ اور سالوری جیسے شہری علاقوں میں بھی دریائی پانی اور بیک فلو کا پانی پہنچ گیا ہے۔
انتظامیہ الرٹ، راحت کیمپ تیار
ضلع انتظامیہ کے مطابق فی الحال کسی آبادی سے لوگوں کو منتقل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی ہے، تاہم پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں نشیبی علاقوں کے خاندانوں کو راحت کیمپوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ نے راحت کیمپوں میں کھانے، پینے کے پانی اور رہائش کا انتظام مکمل کر لیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں اور لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ زیر آب سڑکوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے، جبکہ سنگم اور دریائی علاقوں میں پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے۔
23 اضلاع میں سیلاب کا شدید اثر
ریاستی حکومت کے مطابق اب تک 35 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں 23 اضلاع میں صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ اب تک 16,784 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں صرف بدھ کے روز 3,042 افراد کو نکالا گیا۔ سیلاب اور بارش سے متعلق واقعات میں اب تک تین افراد کی موت بھی ہوئی ہے۔ حکومت کے مطابق راحت و بچاؤ کے لیے 1,499 کشتیاں اور موٹر بوٹس تعینات کی گئی ہیں، جبکہ 1,067 طبی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
راحت اور بچاؤ کا کام جاری
ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 68,953 غذائی پیکٹ، 3.36 لاکھ سے زیادہ کھانے کے پیکٹ، 5.02 لاکھ کلورین کی گولیاں اور 1.77 لاکھ او آر ایس پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے، زیر آب علاقوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ریاست بھر میں سیلاب کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور راحت و بچاؤ کا کام تیزی سے جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…