وزیراعظم نریندر مودی نے چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں منعقد پولیس ڈائریکٹر جنرلز اور انسپکٹر جنرلز کی 60ویں آل انڈیا کانفرنس میں شرکت کی۔ تین روزہ اس کانفرنس کا موضوع ’’وکست بھارت: سکیورٹی ڈائمنشنز‘‘ تھا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے عوام کی پولیس کے بارے میں سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کو پیشہ ورانہ، حساس اور جوابدہ بنانا اہم ہے۔
نئے قوانین اور جدید پولیس نظام کی ضرورت
وزیراعظم مودی نے شہری پولیس ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ٹورسٹ پولیس کو فعال کرنے اور نو تشکیل شدہ بھارتیہ نیائے سنہیتا، بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ غیرآباد جزیروں کو سکیورٹی نیٹ ورک میں لانے کی نئی حکمت عملی اپنائیں اور نیٹ گریڈ کے تحت متحدہ ڈیٹا بیس کا مؤثر استعمال کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ان نظاموں کو آپس میں مربوط کرنے کی ہدایت دی۔
فورینسک تحقیق کا دائرہ وسیع کرنے کی اپیل
وزیراعظم نے یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مجرمانہ تفتیش میں فورینسک ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق اور کیس اسٹڈیز تیار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ: ’’فورینسک سائنس کا بہتر استعمال ملک کی فوجداری انصاف کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائے گا۔‘‘
قومی سلامتی، دہشت گردی اور منشیات پر گفتگو
کانفرنس کے دوران قومی سلامتی اور تفتیشی صلاحیتوں کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں: ویژن 2047 کے تحت پولیس کا مستقبل، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے نئے رجحانات، خواتین کی سلامتی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، بھارت سے مفرور ملزمان کی وطن واپسی کی حکمت عملی اور موثر تفتیش کیلئے فورینسک صلاحیت کو بڑھانا جیسے موضوعات شامل تھے۔ وزیر اعظم نے منشیات کے خلاف کارروائی کے لیے مربوط حکومتی پالیسی کو ضروری قرار دیا جس میں نفاذ، بحالی اور سماجی سطح پر آگاہی شامل ہو۔
قدرتی آفات میں پولیس کی تیاریوں پر زور
وزیراعظم مودی نے پولیس اہلکاروں کی آفات سے نمٹنے کی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی سانحات کے دوران تیز رسپانس سسٹم، بہتر ہم آہنگی اور پیشگی منصوبہ بندی نہایت اہم ہے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کانفرنس میں اعلیٰ سطحی شرکت
اس کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ، قومی سلامتی مشیر، وزیرمملکت برائے داخلہ اور مرکزی داخلہ سکریٹری نے شرکت کی۔ ملک بھر سے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، انسپکٹر جنرل، مرکزی مسلح دستوں اور پولیس اداروں کے افسران موجود تھے، جبکہ 700 سے زیادہ افسران نے ورچوئل شرکت کی۔ وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ بھارت ایک ترقی یافتہ ملک کی طرف بڑھ رہا ہے، اس لیے پولیسنگ کا نظام بھی اسی رفتار سے جدید، موثر اور انسان دوست ہونا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
این ڈی اے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مرکزی وزیر نے خواتین کے خلاف…
بھارت کی اسٹار اسپرنٹر ہریتا بھدرا نے جاپان میں خواتین کی 200 میٹر فائنل ریس…
غیر تعاون کرنے والے مکینوں کے لیے ٹرانزٹ کرایہ کم کرنے کا فیصلہ، رضاکارانہ طور…
پی ایم مودی نے کہا کہ ستمبر کا مہینہ سوءِ تغذیہ کے خلاف جنگ کے…
غزہ میں تقریباً تین سال سے جاری جنگ کی وجہ سے بڑا حصہ ملبے میں…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…