نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے سکم کے ریاستی درجہ حاصل کرنے کے 51ویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر ایک خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کنچن جنگا کو سکم کی سرزمین، اس کی یادداشت اور شعور کا محافظ قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے ایک مضمون کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کنچن جنگا کی تہذیبی، روحانی اور قدرتی اہمیت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جیسے ہی سکم اپنی ریاستی حیثیت کے 51ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، جیوترادتیہ سندھیا نے کنچن جنگا کے حوالے سے ایک متاثر کن مضمون تحریر کیا ہے، جس میں اسے سکم کی زمین، یادوں اور اجتماعی شعور کا نگہبان بتایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مضمون میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کنچن جنگا کے پانچ خزانے یا پانچ ”رتن“ کس طرح سکم کی ترقی اور “وکست سکم 2047“ کے وژن کو روشنی فراہم کر رہے ہیں۔
اپنے مضمون میں مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کنچن جنگا کو محض ایک پہاڑی سلسلہ نہیں بلکہ سکم کی تہذیبی روح قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ جب کنچن جنگا کا تصور ذہن میں آتا ہے تو برف سے ڈھکی عظیم ہمالیائی چوٹیاں، بادلوں میں لپٹی وادیاں کی تصویریں ابھرنے لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکم کی تقریباً ایک چوتھائی زمین کنچن جنگا نیشنل پارک کے دائرے میں آتی ہے، جو نہ صرف قدرتی حسن بلکہ روحانی اور ثقافتی ورثے کا بھی اہم مرکز ہے۔ سندھیا نے کہا کہ صدیوں سے کنچن جنگا مقامی برادریوں کی لوک روایات اور عقیدت کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے عظیم لاما لہاتسن چینپو کے حوالے سے بتایا کہ کنچن جنگا کی پانچ چوٹیوں کو ”برف کے پانچ دائمی خزانے“ کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک چوٹی سونے کا خزانہ ہے، دوسری چاندی کا، جبکہ باقی چوٹیاں جواہرات، اناج اور مقدس صحیفوں کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
مرکزی وزیر نے حالیہ دورۂ سکم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکم کی ریاستی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے دوران انہیں یہ قدیم تصور جدید دور میں بھی پوری طرح زندہ محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلا خزانہ ”سونا“ دراصل سکم کے لوگ ہیں، کیونکہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے باشندے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق سکم میں لیپچا، بھوٹیا اور نیپالی برادریوں کے درمیان سماجی ہم آہنگی اور اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پائیدار ترقی صرف عوامی اعتماد اور اشتراک سے ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا خزانہ ”چاندی“ سکم کی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع میں جھلکتا ہے۔ تیستا اور رنگیت جیسی ندیاں گھنے جنگلات اور بادلوں سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان بہتی ہیں، جبکہ چائے کے باغات اور چیری کے درخت ریاست کے قدرتی حسن کو مزید دلکش بناتے ہیں۔
سندھیا کے مطابق تیسرا خزانہ ”جواہرات“ ہیں، اور سکم میں یہ جواہرات ثقافتی، روحانی اور تہذیبی شکل میں موجود ہیں۔ انہوں نے مختلف خانقاہوں، راوانگلا کے عظیم بدھ پارک، بھالی ڈھونگا اسکائی واک اور گرو پدم سمبھوا سے منسوب مقدس مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکم آج کی شورش زدہ دنیا میں روحانیت اور سکون کی ایک نایاب مثال پیش کرتا ہے۔ انہوں نے چوتھے خزانے ”اناج“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکم کا مکمل طور پر نامیاتی ریاست بن جانا جدید بھارت کی سب سے بڑی ترقیاتی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ نامیاتی کھیتی، الائچی کی پیداوار اور پائیدار زرعی نظام نے ثابت کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں بھی مضبوط مقامی معیشت قائم کی جا سکتی ہے۔ مرکزی وزیر نے پانچویں خزانے ”مقدس صحیفوں“ کو سکم کی دانشمندی اور تعلیمی شعور سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نامچی میں سکم اسٹیٹ یونیورسٹی کے نئے کیمپس اور تعلیمی ادارے اس بات کی علامت ہیں کہ ریاست روایات کا احترام کرتے ہوئے جدید علم، مہارت اور اختراع کے دروازے کھول رہی ہے۔ ان کے مطابق وکست بھارت کا خواب اس بات پر منحصر ہوگا کہ سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کس حد تک فروغ دیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق…