نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو ایک وسیع تحریک میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی بنا رہا ہے۔ سڑکوں پر مظاہروں اور سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی کے بعد اب اپوزیشن نومبر میں ایک بڑی ریلی کے ذریعے اس معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس تحریک کو دہلی سے مغربی بنگال تک پھیلانے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی اس ممکنہ حکمت عملی کے تین اہم حصے ہیں- سڑکوں پر احتجاج، عدالت میں قانونی لڑائی اور بڑی عوامی ریلی کے ذریعے لوگوں کو متحرک کرنا۔ اس کا مقصد خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر (SIR)، ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے الزامات اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کے سوال کو مسلسل سیاسی بحث کا حصہ بنائے رکھنا ہے۔
پہلا محاذ: سڑکوں پر احتجاج جاری رہے گا
’انڈیا‘ بلاک کے لیڈر مارچ، دھرنے اور مشترکہ مظاہروں کے ذریعے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت اور اہل ووٹروں کے حقوق سے متعلق سنگین سوالات موجود ہیں۔ آئندہ کی حکمت عملی میں ان مسائل کو مختلف ریاستوں اور اضلاع تک پہنچانے پر زور دیا جا سکتا ہے، تاکہ اس معاملے پر عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔
دوسرا محاذ: سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی
اپوزیشن نے ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ قانونی محاذ پر اپوزیشن ووٹر لسٹ میں شفافیت، مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ اٹھا سکتی ہے۔ گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ الیکشن کمشنروں کی جواب دہی سے متعلق قانونی دفعات پر بحث شروع کرانے کا متبادل بھی اپوزیشن کے سامنے ہو سکتا ہے۔ تاہم، استعفے کا مطالبہ کرنا اور آئینی طریقۂ کار کے تحت کسی عہدے دار کو عہدے سے ہٹانا دو الگ الگ معاملات ہیں۔
تیسرا محاذ: نومبر میں بڑی ریلی، دہلی سے بنگال تک تحریک
ذرائع کے مطابق، نومبر میں ’انڈیا‘ بلاک کی ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کے امکان پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس ریلی کے ذریعے تحریک کو نئی رفتار دینے اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کا دوسرا اہم پہلو تحریک کو مختلف علاقوں تک پھیلانا ہے۔ دہلی سے شروع ہونے والے احتجاج کو مغربی بنگال تک لے جانے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ایس آئی آر، ووٹر لسٹ اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی سے متعلق سوالات کو قومی سیاسی بحث میں برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، ریلی کی تاریخ، مقام، قیادت اور دہلی سے بنگال تک تحریک کے پروگرام کا باضابطہ اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔
بڑا سوال: کیا اپوزیشن تین محاذوں پر تحریک چلائے گی؟
اب سب کی نظریں ’انڈیا‘ بلاک کی آئندہ میٹنگ، سپریم کورٹ میں قانونی کارروائی اور نومبر میں مجوزہ ریلی کے لائحۂ عمل پر ہیں۔ اگر سڑکوں پر احتجاج، عدالتی لڑائی اور عوامی اجتماع کو ایک مشترکہ پروگرام کے تحت آگے بڑھایا جاتا ہے تو گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی تحریک آنے والے ہفتوں میں مزید وسیع ہو سکتی ہے۔ فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا نومبر کی مجوزہ بڑی ریلی اس احتجاج کو ایک وسیع قومی تحریک میں تبدیل کرنے کی شروعات ثابت ہوگی؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام،…
سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…
وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…
’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…
پولیس رتن سنگھ کی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں…
پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے…