قومی

PM Modi On Digital India: ریڑھی والے سے لے کر کار شوروم تک، سب کے لیے ایک جیسا پیمنٹ سسٹم! پی ایم مودی نے دنیا کو دکھائی ہندوستان کی ڈیجیٹل طاقت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں ہندوستان کی ڈیجیٹل تبدیلی، اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم اور تکنیکی ترقی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ٹیکنالوجی کا استعمال صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ چھوٹے دکانداروں اور عام لوگوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بیرون ملک سے آئے مہمانوں کو ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو آزمانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جامع ٹیکنالوجی کی طاقت واضح طور پر نظر آتی ہے۔

ریڑھی والے سے لے کر بڑے شوروم تک ڈیجیٹل ادائیگی

پی ایم مودی نے ڈیجیٹل ادائیگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والا ایک دکاندار اور ایک بڑا کار شوروم، دونوں ایک ہی ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم کا استعمال کر سکتے ہیں۔ دونوں کے کاروبار کا حجم اور آمدنی بھلے ہی الگ الگ ہو، لیکن ادائیگی کی سہولت تک ان کی رسائی یکساں ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق، یہی جامع ٹیکنالوجی کی اصل طاقت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے اور چھوٹے کاروباریوں کو بھی آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں۔ ہندوستان کا ڈیجیٹل ادائیگی ایکو سسٹم اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تنوع کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا اہم کردار

وزیر اعظم نے ہندوستان کے لسانی اور سماجی تنوع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 100 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہاں تقریباً 80 ہزار رجسٹرڈ اخبارات اور اشاعتی ادارے ہیں، جب کہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کی تعداد بھی ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں ڈیجیٹل ذرائع نے لوگوں کو اپنی بات رکھنے اور مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں خیالات کے تبادلے اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

چھوٹے شہروں سے سامنے آ رہے ہیں نئے اسٹارٹ اَپس

پی ایم مودی نے ملک میں اسٹارٹ اَپس کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے پہلے ہندوستان میں چند سو اسٹارٹ اَپس ہوا کرتے تھے، جب کہ اب ان کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف اسٹارٹ اَپس چھوٹے شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 45 فیصد اسٹارٹ اَپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر یا شراکت دار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کاروبار اور اختراع کے مواقع پہلے کے مقابلے میں زیادہ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔

دنیا کے ساتھ ہندوستان کا تجربہ شیئر کیا جا رہا ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دوسرے ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا اپنا تجربہ شیئر کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل نظام تیار کر سکیں۔ کووڈ-19 وبا کے دوران تیار کیا گیا کووِن (Co-WIN) پلیٹ فارم اس کی ایک مثال ہے، جسے اوپن سورس کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ پی ایم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی اور اختراع کا اصل مقصد صرف نئی مصنوعات تیار کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی ہے۔ جب زیادہ لوگوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور نئے خیالات پر کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں تو اس کا فائدہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ ہندوستان کی کوشش بھی یہی ہے کہ اس کی تکنیکی صلاحیتیں نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

INDIA Bloc: سڑک سے سپریم کورٹ تک لڑائی، نومبر میں اپوزیشن کی بڑی ریلی کی تیاری! دہلی سے بنگال تک تحریک پھیلانے کی حکمت عملی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں…

1 hour ago

Finance Minister Nirmala Sitharaman: ایل ٹی سی جی ٹیکس پر نرملا سیتارمن نے کیا کہا؟ کیا حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایل ٹی سی جی ٹیکس کو کرے گی ختم ؟

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری…

2 hours ago

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

3 hours ago