قومی

West Bengal Elections: مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی تیاریاں مکمل، سخت سکیورٹی کے درمیان ہائی اسٹیکس مقابلہ

کولکتہ: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ جمعرات کے روز ہونے والے اس مرحلے میں تقریباً 3.6 کروڑ ووٹرز 16 اضلاع کی 152 نشستوں پر قائم تقریباً 44 ہزار پولنگ مراکز پر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

کم مراحل مگر سخت سکیورٹی انتظامات

اس بار انتخابات صرف دو مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں، جبکہ 2021 میں آٹھ اور 2016 میں چھ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اگرچہ مراحل کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن سکیورٹی کے لحاظ سے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن نے سخت قواعد نافذ کیے ہیں۔

اہم سیاسی مقابلہ

پہلے مرحلے میں کم از کم 80 نشستوں پر حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس اور اہم اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان براہِ راست مقابلہ متوقع ہے۔ کچھ نشستوں پر کثیر رخی مقابلہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ لیفٹ فرنٹ اور کانگریس الگ الگ میدان میں ہیں، جبکہ بعض مذہبی تنظیمیں بھی انتخابی عمل میں شامل ہوئی ہیں۔

کن اضلاع میں ووٹنگ ہوگی

جن اضلاع میں اس مرحلے میں ووٹنگ ہوگی ان میں دارجلنگ، کالمپونگ، جلپائی گوڑی، علی پور دوار، کوچ بہار، شمالی و جنوبی دیناجپور، مالدہ، مرشد آباد، بیر بھوم، مغربی بردھمان، پورولیا، بانکوڑا، جھاڑگرام، مغربی و مشرقی مدناپور شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 1,478 امیدوار میدان میں ہیں۔

سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تقریباً 2,407 مرکزی مسلح پولیس فورسز کی کمپنیاں، جن میں 2.4 لاکھ سے زائد اہلکار شامل ہیں، تعینات کیے گئے ہیں۔ 7,384 پولنگ مراکز کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اور فوری ردعمل ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

ووٹرز کے لیے سہولیات

ووٹرز کی سہولت کے لیے بریل سے لیس ای وی ایم مشینیں، ریمپ اور ترجیحی قطار جیسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ شکایات کے ازالے کے لیے ٹول فری نمبر اور ای میل آئی ڈی بھی جاری کی گئی ہے۔

ووٹر لسٹ پر سیاسی تنازع

اس انتخاب میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو لے کر سیاسی تنازع بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ ٹی ایم سی نے الزام لگایا ہے کہ اس عمل کے ذریعے ایک خاص طبقے کے نام حذف کیے جا رہے ہیں، جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ فرضی ووٹروں کو ہٹانے کی کارروائی ہے۔

ہٹائے گئے ووٹرز اور تنازع

تقریباً 91 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں، جن میں فوت شدہ، منتقل شدہ یا ڈپلیکیٹ اندراجات شامل ہیں۔ حالانکہ ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ جیسے نئے معیار پر بھی تنازع پیدا ہوا ہے، جس کے تحت نام کی اسپیلنگ یا عمر میں فرق کی بنیاد پر اندراجات حذف کیے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

8 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

35 minutes ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

43 minutes ago