تہران: ایران کی طاقتور فوجی تنظیم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ جہاز ایران کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اجازت اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا ہے۔
ایران کا دعویٰ:جہازوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی
ایرانی سرکاری میڈیا اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق تحویل میں لیے گئے جہازوں کی شناخت “MSC-FRANCESCA” اور “EPAMINODES” کے نام سے کی گئی ہے۔ IRGC کے بیان میں کہا گیا کہ یہ جہاز خفیہ طور پر آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہوں نے نیویگیشن سسٹمز میں چھیڑ چھاڑ سمیت متعدد خلاف ورزیاں کیں، جس سے سمندری سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔ ایرانی بحریہ نے مزید کہا کہ ان جہازوں کو انٹیلیجنس نگرانی کے بعد روکا گیا اور ایرانی حدود میں لے جا کر ان کے کارگو اور دستاویزات کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز پر’’مکمل کنٹرول‘‘ کا دعویٰ
IRGC بحریہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز پر “ذہین کنٹرول” برقرار رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ جو بھی جہاز ایران کے طے کردہ قواعد یا محفوظ گزرگاہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانونی اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
برطانوی ادارے کی رپورٹ: سمندری حملوں میں اضافہ
ادھر برطانیہ کے سمندری تجارتی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بھی اسی روز دو الگ واقعات کی اطلاع دی، جس سے خطے میں خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایک واقعے میں ایران کے ساحل سے تقریباً 8 ناٹیکل میل دور ایک کارگو جہاز پر فائرنگ کی گئی، جس کے باعث جہاز کو رکنا پڑا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ دوسرے واقعے میں عمان کے شمال مشرق میں ایک کنٹینر جہاز کے قریب مسلح کشتی دیکھی گئی، جسے IRGC سے منسلک قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جہاز پر فائرنگ سے اس کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا، لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو تہران ’’حملے کے مترادف‘‘ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، میں اس طرح کے واقعات عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…