اتر پردیش کے پریاگ راج ضلع میں پیر کی دوپہر ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ فافامؤ کے چنداپور علاقے میں لکھنؤ روڈ پر واقع ایک کولڈ اسٹوریج میں امونیا گیس کا ٹینک پھٹ گیا، جس کے باعث زور دار دھماکہ ہوا اور پوری عمارت کی چھت منہدم ہو گئی۔حادثے کے وقت وہاں آلو ذخیرہ کرنے کے لیے درجنوں مزدور کام کر رہے تھے۔ چھت گرنے کے باعث کئی مزدور ملبے تلے دب گئے، جس سے علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور فوری طور پر ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
امونیا گیس کا اخراج، خطرہ مزید بڑھ گیا
پریاگ راج کے کولڈ اسٹوریج حادثے کے بعد امونیا گیس کا اخراج شروع ہو گیا، جو دور تک پھیل گئی اور قریبی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ ناک اور منہ ڈھانپ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ امونیا گیس نہایت زہریلی ہوتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ فائر بریگیڈ نے گیس پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم گیس کے باعث ریسکیو ٹیموں کو اندر داخل ہونے میں مشکلات پیش آئیں۔
ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد
اب تک 4 مزدوروں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مہلوکین میں بہار کے سہرسہ ضلع کا 32 سالہ جیوتش اور پریاگ راج کے چنداپور کا 44 سالہ جگدیش شامل ہیں۔ 25 سے زائد مزدور زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ایس آر این میڈیکل کالج اور دیگر اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ملبے میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
علاقے میں راحت و بچاؤ کا کام جاری
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ منیش کمار ورما، پولیس کمشنر اور دیگر افسران موقع پر پہنچ گئے۔ فائر بریگیڈ، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں ریسکیو میں مصروف ہیں۔ ملبہ ہٹانے کے لیے جے سی بی مشینوں کی مدد لی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق راحتی کام تیزی سے جاری ہے اور امونیا گیس کے اخراج سمیت حادثے کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
وزیر اعظم کا اظہارِ افسوس
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
حادثے کی وجوہات پر سوالات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ کولڈ اسٹوریج سماجوادی پارٹی کے سابق وزیر انصار احمد کا بتایا جا رہا ہے اور بعض رپورٹس میں اسے خستہ حال قرار دیا گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گنجائش سے زیادہ ذخیرہ کرنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا ہو۔ پولیس نے مالک کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور تفتیش میں حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی سامنے آ سکتی ہے۔یہ حادثہ مزدوروں کی حفاظت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے فوری کارروائی کی ہے، لیکن مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…