بہار اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے اب پٹنہ شہر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پٹنہ کے مضافاتی علاقے میں قائم ’بہار نوَنرمان آشرم‘ میں رہنے لگے ہیں۔ پرشانت کشور نے کہا کہ اب یہی ان کا نیا ٹھکانہ ہوگا اور یہیں سے وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں آگے بڑھائیں گے۔
پی کے نے گھر کب چھوڑا؟
دربھنگہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 48 سالہ پرشانت کشور نے بتایا کہ منگل کی رات انہوں نے پٹنہ میں واقع اپنا پرانا گھر چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ آشرم سے ہی پارٹی کا کام دیکھیں گے اور اگلے اسمبلی انتخابات تک وہیں قیام کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تب تک جن سوراج پارٹی اپنی الگ شناخت بنا چکی ہوگی۔
پی کے کی سیاسی شروعات
آئی-پیک (I-PAC) کے شریک بانی رہ چکے پی کے نے دو سال قبل سیاست میں قدم رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی قائم کی تھی۔ اب تک وہ پٹنہ ایئرپورٹ کے قریب واقع شیخپورہ ہاؤس سے پارٹی کا کام چلا رہے تھے۔ یہ بنگلہ بی جے پی کے سابق رکنِ پارلیمان ادے سنگھ کے خاندان کی ملکیت ہے۔
نتیش کمار پر حملہ
پی کے نے سابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جس لیڈر کو انتخابات کے بعد وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا، وہ بہار میں ہجرت روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ اس کے بجائے انہوں نے خود راجیہ سبھا کا راستہ اختیار کر لیا۔ پی کے نے الزام لگایا کہ جاتے جاتے نتیش نے یہ بھی یقینی بنا لیا کہ ان کے بیٹے نشانت کمار کو اقتدار میں جگہ مل جائے۔
نشانت کے سلسلے میں کیا کہا؟
پرشانت کشور نے کہا کہ نتیش کمار کے بیٹے نشانت اب این ڈی اے حکومت کا حصہ ہیں، جس کی قیادت وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسے اقتدار کی خاندانی منتقلی قرار دیتے ہوئے عوام کو خبردار کیا کہ یہ سب ایک منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ہے۔
ووٹروں کو تنبیہ
پی کے نے بہار کے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ ذات، مذہب یا پیسوں کے لالچ میں آکر ووٹ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالتے وقت لوگوں کو اپنے بچوں کے مستقبل کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ پرشانت کشور نے کہا کہ 10 ہزار روپے کے بدلے ووٹ فروخت کرنا ریاست کے لیے نقصان دہ ہے۔
خواتین روزگار اسکیم پر کیا بولے پی کے؟
انہوں نے یہ بیان اس اسکیم کے تناظر میں دیا جس کے تحت انتخابات سے پہلے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دیے گئے تھے۔ پی کے نے اسے ووٹروں کو متاثر کرنے کا طریقہ قرار دیا اور کہا کہ عوام کو ایسے لالچ سے بچنا چاہیے۔
سمراٹ چودھری پر نشانہ
پی کے نے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری پر بھی الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ بہار ملک کی سب سے غریب ریاست ہے، لیکن یہاں فضول خرچی بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ پی کے نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ 25 ایکڑ پر پھیلے عالی شان سرکاری رہائش گاہ میں رہتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال پر بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔
بنگلےسے متعلق تنازع
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمراٹ چودھری اس رہائشی کمپلیکس کو مزید بڑا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ اس بنگلے کو بھی وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں، جہاں وہ نائب وزیرِ اعلیٰ کے طور پر رہتے تھے۔ پی کے نے اسے عوام کے پیسے کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک غریب ریاست میں اس طرح کی شاہانہ زندگی مناسب نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…