صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 75(2) کے تحت ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔
پرلہاد جوشی کو نئی ذمہ داری
وزیراعظم کی سفارش پر صدر جمہوریہ نے کابینہ وزیر پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا ہے۔ جوشی کرناٹک کے دھارواڑ سے رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور اس وقت امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل سولر الائنس کے چیئرمین بھی ہیں۔
پردھان کا استعفیٰ
دھرمیندر پردھان نے ہفتہ کے روز استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم طلبہ کے مستقبل کے تحفظ اور جنتر منتر پر جاری احتجاج سے فائدہ اٹھانے والی ’ملک دشمن طاقتوں‘ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کا استعفیٰ مودی حکومت میں کسی سینئر وزیر کی جانب سے دباؤ اور مسلسل احتجاج کے درمیان عہدہ چھوڑنے کی ایک نادر مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
سی جے پی کا دباؤ
یہ استعفیٰ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔ سی جے پی لیڈر نے واضح کر دیا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ان کا سب سے اہم مطالبہ ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
نئے وزیر کو انتباہ
پرلہاد جوشی کی تقرری کے بعد سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ نوجوانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئے وزیرِ تعلیم نے ان کے مسائل پر توجہ نہ دی تو وہ دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج شروع کریں گے اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو…
امت شاہ نے جمعرات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نکسل تشدد سے متاثرہ افراد اور…
ٹیلی کام صارفین کو انجان نمبروں سے آنے والی کال کی شناخت میں ہوگی آسانی،…
اچانک ہنگامہ شروع ہونے کے بعد وہاں موجود تمام صحافی پیچھے کی جانب مڑ گئے۔…
شمال مشرقی دہلی میں یہ 2 دن کے اندر قتل کی دوسری واردات ہے۔ اس…
پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں…