جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر۔
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسرسلیم انجینئرنے مرکزی وزیرِتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتحانی بے ضابطگیوں اورنیٹ پرچہ لیک تنازعہ کے تناظرمیں احتساب کی جانب ایک دیرسے اٹھایا گیا اہم قدم قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ استعفیٰ بہت پہلے آ جانا چاہئے تھا، تاہم موجودہ مرحلے پربھی یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک بھرکے طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اوراعتراضات نہایت سنجیدہ نوعیت کے تھے۔ “جماعت اسلامی ہند مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ملک کے امتحانی نظام سے متعلق باربارسامنے آنے والے تنازعات کے پیش نظریہ فیصلہ بہت پہلے کرلیا جانا چاہئے تھا۔ تاہم، یہ قدم ذمہ داری کا تعین کرنے اورعوام کا تعلیمی اداروں پراعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم آغازہے۔ ہم جنریشن زی، طلبہ تنظیموں اورملک بھرکے ان ہزاروں نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، جنہوں نے احتساب کے مطالبے کے لیے پُرامن احتجاج میں حصہ لیا۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نوجوانوں نے جس عزم، صبراورجمہوری شعورکا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کی مسلسل اورپُرامن جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کے نوجوان تعلیمی نظام کی شفافیت، دیانت داری اورلاکھوں طلبا کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اورپُرعزم ہیں۔”
”تاہم، صرف ایک فرد کا استعفیٰ تعلیمی نظام کودرپیش گہرے اورسنگین مسائل کا حل نہیں ہے۔ موجودہ بحران علامتی اقدامات سے نہیں بلکہ جامع اوربنیادی اصلاحات سے حل ہوگا۔ حکومت کواب ایسے بامعنی اقدامات کرنے چاہئیں جن سے سرکاری امتحانات کی ساکھ بحال ہو، ادارہ جاتی شفافیت اوراحتساب مضبوط ہواورمستقبل میں اس نوعیت کی ناکامیوں کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ اس اصلاحی عمل میں ماہرینِ تعلیم، تعلیمی منتظمین، محققین، اساتذہ اوردیگرمتعلقہ ماہرین کومؤثراندازمیں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ دیرپا اصلاحات پیشہ ورانہ مہارت اوروسیع عوامی مشاورت کی بنیاد پر تشکیل پائیں۔”
تعلیمی اصلاحات کے لئے پُرامن اورجمہوری جدوجہد کا خیرمقدم
پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا:”ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اورپُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویشناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگراپنے حدود سے تجاوزکرنے والے اہلکاران کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے۔ ہم طلبہ اورتمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے اس بڑے مقصد کے لیے پُرامن اورجمہوری اندازمیں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہئے جب تک بامعنی اصلاحات نافذ نہ ہوجائیں اورتعلیمی نظام پرعوام کا اعتماد مکمل طورپربحال نہ ہوجائے۔”ہمارے ملک کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے، جوشفاف ہو، دیانت داری پرمبنی ہو، ملک کے تمام طلباء وطالبات کے لئے قابلِ رسائی ہواورجوسب کوترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔”
تعلیمی نظام کی شفافیت، دیانت داری اور طلبا کے مستقبل کا تحفظ ضروری: جماعت اسلامی
جماعت اسلامی ہند مرکزی وزیرِتعلیم کے استعفے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ملک کے امتحانی نظام سے متعلق باربارسامنے آنے والے تنازعات کے پیش نظریہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم، یہ قدم ذمہ داری کا تعین کرنے اورعوام کا تعلیمی اداروں پراعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم آغاز ہے۔ ہم جنریشن زی، طلبہ تنظیموں اورملک بھر کے ان ہزاروں نوجوانوں کومبارکباد پیش کرتے ہیں، جنہوں نے احتساب کے مطالبے کے لیے پُرامن احتجاج میں حصہ لیا۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نوجوانوں نے جس عزم، صبر اورجمہوری شعورکا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کی مسلسل اورپُرامن جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کے نوجوان تعلیمی نظام کی شفافیت، دیانت داری اورلاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اورپُرعزم ہیں۔ تاہم، صرف ایک فرد کا استعفیٰ تعلیمی نظام کو درپیش گہرے اور سنگین مسائل کا حل نہیں ہے۔ موجودہ بحران علامتی اقدامات سے نہیں بلکہ جامع اور بنیادی اصلاحات سے حل ہوگا۔ حکومت کو اب ایسے بامعنی اقدامات کرنے چاہئیں جن سے سرکاری امتحانات کی ساکھ بحال ہو، ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب مضبوط ہو، اور مستقبل میں اس نوعیت کی ناکامیوں کی مکمل روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ اس اصلاحی عمل میں ماہرینِ تعلیم، تعلیمی منتظمین، محققین، اساتذہ اور دیگر متعلقہ ماہرین کو مؤثراندازمیں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ دیرپا اصلاحات پیشہ ورانہ مہارت اوروسیع عوامی مشاورت کی بنیاد پرتشکیل پائیں۔”
مظاہرین طلبا پرلاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پراظہارتشویش
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:”ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگراپنے حدود سے تجاوزکرنے والے اہلکاران کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے۔ ہم طلبہ اورتمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے اس بڑے مقصد کے لیے پُرامن اور جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک بامعنی اصلاحات نافذ نہ ہوجائیں اورتعلیمی نظام پرعوام کا اعتماد مکمل طورپربحال نہ ہوجائے۔”ہمارے ملک کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو شفاف ہو، دیانت داری پر مبنی ہو، ملک کے تمام طلباء و طالبات کے لئے قابلِ رسائی ہو، اور جو سب کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…