ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے منگل کے روز بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ/FTA) کو سراہتے ہوئے اسے ایک “بہترین” معاہدہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک کے برآمد کنندگان کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا کہ اس ایف ٹی اے کے تحت بھارت کو کی جانے والی نیوزی لینڈ کی 95 فیصد برآمدات پر محصولات کم یا ختم کر دیے جائیں گے، جس سے کسانوں، مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان کو مضبوط سہارا ملے گا۔
انہوں نے کہا، “میرے کام کا ایک نہایت اہم حصہ یہ ہے کہ میں عالمی سطح پر نیوزی لینڈ کے مفادات کے لیے بھرپور کوشش کروں۔ ہم نے ابھی بھارت کے ساتھ ایک شاندار آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کیا ہے، اور یہ ٹوڈ ‘ٹریڈ’ میک کلے اور ہماری مذاکراتی ٹیم کی محنت اور ثابت قدمی کا ثبوت ہے۔ یہ ایف ٹی اے بھارت کے لیے ہماری 95 فیصد برآمدات پر محصولات کم یا ختم کرتا ہے۔ دیگر ایف ٹی ایز کے بعد تجارت میں نیوزی لینڈ کی ترقی کو دیکھتے ہوئے، اس معاہدے سے ہمارے برآمد کنندگان اور معیشت کو ہونے والا ممکنہ فائدہ بہت بڑا ہے۔”
لکسن نے مزید کہا، “اس وقت تجارت نیوزی لینڈ میں ہر چار میں سے ایک ملازمت کو سہارا دیتی ہے، اور یہ معاہدہ اس بنیاد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ ہمارے کسانوں، باغبانوں، مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بناتا ہے۔ اگر آپ نیوزی لینڈ میں کوئی بہترین چیز تیار کر رہے ہیں اور اسے دنیا بھر میں فروخت کرنا چاہتے ہیں، تو نیشنل پارٹی ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ جب ہم دنیا کے ساتھ تجارت کرتے ہیں تو اپنی معیشت کو اندرونِ ملک فروغ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے زیادہ ملازمتیں، زیادہ سرمایہ کاری اور کیویز کے لیے زیادہ اجرتیں۔”
اس سے قبل پیر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس کے دوران دونوں لیڈران نے مشترکہ طور پر بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کے تاریخی اعلان کی تصدیق کی۔ دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مشترکہ مواقع کے فروغ کے لیے ایک مضبوط محرک ثابت ہوگا۔
وزیر اعظم مودی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، “میرے دوست وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن اور میری کچھ دیر قبل ایک نہایت مفید بات چیت ہوئی، جو تاریخی بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کے اختتام کے بعد ہوئی۔ صرف نو ماہ میں مکمل ہونے والا یہ سنگِ میل ہمارے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس آزاد تجارتی معاہدے کے تحت معاہدہ نافذ ہونے کے ساتھ ہی 100 فیصد اشیائی برآمدات پر زیرو ڈیوٹی لاگو ہوگی؛ 8,284 ٹیرف لائنز پر محصولات ختم کیے جائیں گے، جس سے بھارتی مصنوعات کو مزید منڈی تک رسائی حاصل ہوگی؛ جبکہ آئی ٹی-آئی ٹی ای ایس، مالیات، تعلیم، سیاحت اور آڈیو ویژول خدمات کے شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے آئندہ پندرہ برسوں میں بھارت میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے، جس سے بھارت کے “میک اِن انڈیا” وژن کے تحت مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر، خدمات، اختراع اور روزگار کو تقویت ملے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…