قومی

Net FDI into India nearly doubles: آربی آئی رپورٹ کے مطابق اپریل سے اکتوبر کے درمیان خالص ایف ڈی آئی تقریباً دوگنی ہوکر 6.2 ارب ڈالر ہوئی

ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے تازہ ماہانہ بلیٹن کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اپریل سے اکتوبر کے درمیان بھارت میں خالص غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (Net FDI) تقریباً دوگنی ہو کر 6.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 3.3 ارب ڈالر تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ سرمایہ واپسی (Repatriation) میں کمی رہی، حالانکہ بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مجموعی ایف ڈی آئی میں بھی اضافہ

اسی مدت کے دوران مجموعی اندرون ملک ایف ڈی آئی (Gross Inward FDI) معمولی اضافے کے ساتھ 58.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو ایک سال قبل 50.5 ارب ڈالر تھی۔ آر بی آئی کے مطابق اکتوبر میں بھی ایف ڈی آئی کی رفتار مستحکم رہی، جس میں سنگاپور، ماریشس اور امریکہ نے مجموعی سرمایہ کاری کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کیا۔

سرمایہ واپسی میں کمی، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ

اپریل تا اکتوبر کے عرصے میں سرمایہ واپسی گھٹ کر 31.65 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 33.2 ارب ڈالر تھی۔ اس کے برعکس بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری (Outward FDI) میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 14.06 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

کن شعبوں میں زیادہ سرمایہ آیا

آربی آئی کی ’’اسٹیٹ آف دی اکانومی‘‘ رپورٹ کے مطابق بھارت میں آنے والی ایف ڈی آئی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ مالیاتی خدمات کے شعبے میں رہا۔ اس کے بعد مینوفیکچرنگ، بجلی اور مواصلاتی خدمات کے شعبے نمایاں رہے، جس سے ان صنعتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے۔

اکتوبر میں خالص ایف ڈی آئی منفی کیوں رہی؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں خالص ایف ڈی آئی منفی رہی، جس کی وجہ زیادہ سرمایہ واپسی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ تھا۔ اس دوران سرمایہ واپسی تقریباً 5 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اکتوبر میں 5.4 ارب ڈالر تھی، جبکہ بیرونِ ملک ایف ڈی آئی بڑھ کر 3.90 ارب ڈالر ہو گئی، جو ایک سال قبل 1.89 ارب ڈالر تھی۔

بیرونی سرمایہ کاری کی اہم منزلیں

آؤٹ ورڈ ایف ڈی آئی کے لیے سنگاپور سب سے بڑی منزل رہا، اس کے بعد امریکہ اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا نمبر آیا۔ یہ تینوں ممالک مجموعی بیرونی سرمایہ کاری کے نصف سے زیادہ حصے کے حامل رہے۔ شعبہ جاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو تقریباً 90 فیصد بیرونی سرمایہ کاری مالیاتی، انشورنس اور بزنس سروسز میں ہوئی، جبکہ اس کے بعد تھوک و پرچون تجارت اور مینوفیکچرنگ کا نمبر رہا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

57 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

1 hour ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago