اتر پردیش کے سنبھل کی جامع مسجد سے متعلق معاملے میں پولیس نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پولیس نے شاہی جامع مسجد کمیٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ ظفر علی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ تفتیش کے بعد ظفر علی کی گرفتاری کا بھی خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ ظفر علی سے پولیس شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران 24 نومبر کو ہونے والے تشدد کے سلسلے میں تفتیش کر رہی ہے۔
24 نومبر کو عدالت کے حکم پر جامع مسجد میں سروے کیا جا رہا تھا، جب تشدد بھڑک اٹھا تھا اور تین لوگ مارے گئے تھے۔ ایس آئی ٹی اس واقعہ کی جانچ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق اس سوال کے جواب میں کہ کیا مسجد کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے؟ سنبھل کوتوالی کے انچارج انوج کمار تومر نے کہا کہ انھیں ابھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ایس آئی ٹی نے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے اپنی تحویل میں لیا ہے۔
شاہی جامع مسجد کی رنگائی کا کام ہے جاری
دریں اثنا ہائی کورٹ کے حکم پر جامع مسجد میں پینٹنگ کا کام بھی تیز رفتاری سے ہو رہا ہے۔ مسجد کے مغربی حصے کی بیرونی دیواروں پر پینٹنگ کا کام لگاتار جاری ہے۔ دیواروں پر سنگل کوٹ پینٹ کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ مسجد کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے دہلی سے لے جائی گئی ایل ای ڈی فوکس لائٹس بھی لگائی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو ہدایت دی ہے کہ رنگائی کے دوران مسجد کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ جامع مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی نے کہا ہے کہ مسجد میں سبز سمیت تمام پرانے رنگ پہلے کی طرح استعمال ہو رہے ہیں۔ تاہم ہندو فریق نے انتظامیہ کو ایک میمورنڈم دیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسجد کو یا تو زعفرانی رنگ میں رنگا جائے یا مکمل طور پر سفید رنگ میں رنگا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…