نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کوٹدوار میں پیش آنے والےحالیہ فرقہ وارانہ واقعے سے نمٹنے کے پولیس طریقۂ کار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے کی گئی اب تک کی کارروائیاں انصاف، جوابدہی اور آئینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند دیپک کمار اور وجے راؤت کی اس اخلاقی جرأت کی قدر کرتی ہے جس نے کوٹدوار میں حالیہ فرقہ وارانہ واقعے کے دوران ظلم کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسروں کی عزت اور سلامتی کے لیے خوف اور تعصب سے بالاتر ہوکر کئے گئے اس طرح کے جرات مندانہ اقدامات ملک کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب لوگ ناانصافی اور فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انسانیت مزید مستحکم ہوتی ہے اور یہی جذبہ ایک مضبوط اور متحد ملک کی تعمیر کرتا ہے۔
ایف آئی آر پر گہری تشویش کا اظہار
پروفیسرسلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ہم دیپک کمار اور وجے راؤت کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب ویڈیو سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اقدامات دفاعی نوعیت کے تھے اور یہ کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تھے، لیکن اس کے باوجود ان نوجوانوں پر سنگین تعزیری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 31 جنوری کو دیپک کی رہائش گاہ کے گرد ایک ہجوم جمع ہوا، مسلم مخالف نعرے لگائے گئے اور کھلی دھمکیاں دی گئیں، مگر اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں واضح ثبوتوں کے باوجود کسی ملزم کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ سلیم انجینئر کہا کہ منظم فرقہ وارانہ دھمکی اور خوف و ہراس کو ’نامعلوم افراد‘ کے کھاتے میں ڈالنا جوابدہی کو کمزور کرتا ہے اور انتہاپسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے
دکان کے مالک وکیل احمد کو دھمکیاں دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر کہا کہ اس طرح کے واقعات مساوات، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق جیسے آئینی ضمانتوں کے بنیادی اصولوں پر براہ راست حملہ ہیں۔ ہم پوڑی گڑھوال پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ایف آئی آر کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے اقدام کرنے والوں کے خلاف غیر ضروری الزامات واپس لیے جائیں اور تمام مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی ہند ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، اس وقت اور آئندہ بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…