قومی

PoK Unrest: پی او کے میں جاری بدامنی پر میرواعظ عمر فاروق  نے کیا افسوس کا اظہار، مذاکرات پر دیا زور، پاکستان سے کی تحمل برتنے کی اپیل

سری نگر: کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما اور مذہبی پیشوا میرواعظ مولانا عمر فاروق نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے اُس پار ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار، خصوصاً راؤلکوٹ اور پونچھ میں جاری بدامنی کے دوران عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات انتہائی افسوسناک ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’لائن آف کنٹرول کے اُس پار راؤلکوٹ اور پونچھ میں جاری بدامنی کے دوران عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع کی خبروں سے مجھے شدید دکھ پہنچا ہے۔ میری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرہ خاندانوں اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو ان واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقیم بڑی تعداد میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی اور ان کے آئینی و سیاسی درجے سے متعلق جاری مباحث بھی ان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔

گفتگو اور عوامی اعتماد پر زور

میرواعظ نے کہا کہ شناخت، نمائندگی اور سیاسی حقوق جیسے معاملات کو حساسیت، مکالمے اور عوامی اعتماد کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت کی مضبوطی اور قانونی حیثیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے عوام کی کتنی حمایت اور اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تاریخ اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب موجود سماجی، ثقافتی اور خاندانی رشتے اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ خطے کے ایک حصے میں ہونے والے واقعات کے اثرات دوسرے حصے اور دنیا بھر میں آباد کشمیریوں تک پہنچتے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ ان کے خاندان کا جموں و کشمیر کے تمام طبقات، بشمول لائن آف کنٹرول کے اُس پار رہنے والے لوگوں، کے سماجی، تعلیمی، مذہبی اور سیاسی فروغ سے طویل عرصے سے تعلق رہا ہے۔

پاکستانی حکومت سے اپیل

انہوں نے پاکستان کی وفاقی اور مقامی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ مکالمے، تحمل اور باہمی رابطے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ تصادم کے بجائے بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے اختلافات حل کیے جائیں اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے تمام فریقوں سے بھی دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے جلد از جلد امن بحال کرنے اور عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے مستقل امن، استحکام اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی دعا بھی کی۔

پی او کے میں احتجاج 37ویں روز بھی جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدامنی منگل کے روز مسلسل سینتیسویں روز بھی برقرار رہی۔ راؤلکوٹ میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان خان نے پاکستان پر اس علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کے اس دیرینہ مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے پی او کے کو ’متنازع علاقہ‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے ’زیرِ قبضہ علاقہ‘ قرار دیا اور کہا، ’’یہ کوئی متنازع علاقہ نہیں بلکہ زیرِ قبضہ علاقہ ہے، جس پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

HM Amit Shah Hurugram Visit: گروگرام میں امت شاہ کی ریلی سے پہلے لیزر ویلی گراؤنڈ پہنچے بی جے پی لیڈر، سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کا لیا جائزہ

گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…

6 hours ago

Gurugram Seva Jyoti Yatra: گروگرام میں 7 اکتوبر کو ’سیوا جیوتی یاترا‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہوں گے مہمان خصوصی

ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…

6 hours ago