قومی

Rang-e-Sukhan by Delhi Urdu Academy: ’’رنگ سخن‘‘ کے عنوان سے شاعرات کا مشاعرہ اور صوفی محفل کا انعقاد، آج کی نوجوان نسل میں شعر فہمی کا ذوق پیدا کرنا ضروری: ڈاکٹر رشمی سنگھ

نئی دہلی: مشاعرہ صرف شعرا کا کلام سنانے کا نام نہیں بلکہ یہ سماج کے مختلف طبقات کے لیے ایک ایساوسیع پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا شعری اظہار کرسکتے ہیں جو شاعریا شاعرہ اور سامعین کے درمیان براہ راست رابطہ کا مؤثر ذریعہ ہے ۔گویا مشاعرہ سماجی تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم وسیلہ ہے، لیکن ایسے مشاعرے خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جو صرف شاعرات پر مبنی ہو۔اردو خواتین شاعرات کو ایک جگہ اکٹھا کر ’رنگ سخن‘ کی محفل سجانا اپنے آپ میں ایک منفرد اور نیا تجربہ ہے، کیونکہ اس طرح کی ادبی محفلیں شاعرات کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انھیں ادبی دنیا میں متعارف کرانے کے اہم پلیٹ فارم ہیں۔

کناٹ پلیس میں’’رنگ سخن‘‘ کے عنوان سے محفل سجی

گزشتہ شام اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام سینٹرل پارک، کناٹ پلیس میں’’رنگ سخن‘‘ کے عنوان سے اسی طرح کی ایک ادبی و ثقافتی محفل کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی محفل کو دو نشستوں میں منقسم کیا گیا تھا ، جس کی پہلی نشست میں مجلس شعر خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ملک گیر شہرت کی حامل شاعرات مدعو کی گئیں۔ مشاعرہ کی صدارت کہنہ مشق اور معروف شاعرہ تاجور سلطانہ نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داری نوجوان شاعر سلمان سعید نے انجام دی۔

دل کو مسحور کردینے والی شاعری

سکریٹری اردو اکادمی/لنک آفیسر ڈاکٹررمیش ایس لعل ، صدر مشاعرہ تاجور سلطانہ اور اکادمی کے منتظمین کے ہاتھوں شمع روشن کرکے باضابطہ مشاعرے کا آغاز ہوا۔ رنگ سخن کے اس مشاعرے میں تاجور سلطانہ، ڈاکٹر نصرت مہدی،علینا عترت، ڈاکٹر سلمیٰ شاہین، ڈاکٹر انا دہلوی، مہک کیرانوی، پریرنا پرتاپ، نوری پروین اور ہمانشی بابرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ و مسرور کیا۔ سکریٹری محکمہ فن، ثقافت و السنہ حکومتِ دہلی ڈاکٹر رشمی سنگھ، آئی اے ایس، مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شریک ہوئیں ۔ سکریٹری اکادمی ڈاکٹر رمیش ایس لعل نے ڈاکٹر رشمی سنگھ کا گلدستہ سے استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر رشمی سنگھ نے کامیاب مشاعرے کے انعقاد کے لیے اکادمی کے جملہ اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’اردو اکادمی کے زیر اہتمام شاعرات کے اس مشاعرے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ تمام شاعرات نے بہت خوبصورت انداز میں اپنا کلام پیش کیا، یہاں ہمیں دل کو مسحور کردینے والی شاعری سننے کا موقع ملا جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہئے۔‘‘ انھوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شعر و ادب کا سماج سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ ادب سماج کا عکس ہوتا ہے جو معاشرے کے موجودہ مسائل اور انسانی اقدارکی ترجمانی کرتا ہے۔اس لیے نوجوان نسل کو شعر و ادب سے اپنا تعلق استوار کرنا چاہئے۔

’’رنگ بینڈ‘‘کے ذریعہ صوفی محفل کا اہتمام

رنگ سخن کی دوسری نشست میں بھوپال سے تشریف لائے معروف ’’رنگ بینڈ‘‘کے ذریعے ایک روح پرور صوفی محفل کا اہتمام کیا گیا۔ اس درمیان محمد ساجد علی اور گروپ کے دیگر فنکاروں نے مشہور زمانہ قوالیاں اور نغمات گاکر سماں باندھ دیا۔ ساجد علی نے امیر خسرو کے کلام ’’موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے رنگیلے‘‘ سے محفل کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انھوں نے امیر خسرو کے ذریعے حضرت نظام الدین اولیاؒ کی شان میں لکھا گیا کلام پیش کیا۔علاوہ ازیں انھوں نے تو کجا من کجا ، بلھے شاہ ، کن فیکن، سانسوں کی مالاپہ سمروں میں، کل رات تم کہا ں تھے بتانا صحیح صحیح، بے حجابانہ وہ سامنے آگئے جیسے کلاسیکی اور موڈرن صوفی کلام پیش کرکے سامعین کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ محفل میں جہاں دہلی کی عوام جذب و مستی میں نظر آئی وہیں کچھ غیر ملکی سیاح بھی موسیقی پرتھرکتے دکھائی دیئے۔ صوفی محفل کی اس نشست میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں شہریوں، غیر ملکی، ادبی شخصیات، کاروباری اور طلبا کی ایک کثیر تعداد شامل رہی۔ پروگرام کے اختتام پراردو اکادمی کے سینئر اکاؤنٹ آفیسر ویریندر سنگھ کٹھیت، پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون اورعزیر حسن قدوسی نے گلدستہ سے محمد ساجد علی اور ان کے گروپ کی عزت افزائی کی۔ مشاعرہ میں پیش کیے گئے منتخب اشعار:

ہم اگر خون وفا روزکیا کرتے ہیں

یوں تو ہنس ہنس کے سبھی سے وہ ملا کرتے ہیں

(تاجور سلطانہ)

میں کیا کروں کہ تیری انا کو سکوں ملے

گر جاؤں ٹوٹ جاؤں بکھر جاؤں کیا کروں

(نصرت مہدی)

مقام ترک تعلق سے کیسے گزریں ہم

تمہیں بتاؤ تمہیں پر یہ فیصلہ چھوڑا

(سلمیٰ شاہین)

چاند سے پوچھو یا پوچھو میرے دل سے

تنہا کیسے رات بتائی جاتی ہے

(انا دہلوی)

ایک لمحے کو تری سمت سے اٹھا بادل

اور بارش کی سی امید لگالی میں نے

(علینا عترت)

رونا ہی اگر ہوتا دل کھول کے رولیتے

آنسو بھی ہمارے ہیں دامن بھی ہمارا ہے

(مہک کیرانوی)

فقط کہنے کو ہوتا ہے، یقینی پر نہیں ہوتا

جو گھر کو گھر بناتی ہے اسی کا گھر نہیں ہوتا

(پریرنا پرتاپ)

تم گئے تو پھر میں نے آئینہ نہیں دیکھا

لوٹ کر جب آؤ گے خود کو میں سجاؤں گی

(نوری پروین)

ترا دیدارقضا ہوتا نہیں ہے ہم سے

ہم تجھے دیکھنے والوں کی طرح دیکھتے ہیں

(ہمانشی بابرہ)

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

60 minutes ago

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

1 hour ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

2 hours ago