وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے پر اپنے کردار سے متعلق ایک کتاب کوسوشل میڈیا پرشیئرکیا ہے۔ انہوں نے’دی ایمرجنسی ڈائریز‘ میں ایمرجنسی (1975-1977) کے دوران اپنے سفرکو شیئرکیا ہے۔
وزیراعظم مودی نے ایکس پرکیا پوسٹ
وزیراعظم نریندر مودی نے ’ایکس‘ پرلکھا، ’’ایمرجنسی کے دوران میں ایک نوجوان آرایس ایس پرچارک تھا۔ ایمرجنسی مخالف آندولن میرے لئے ایک بڑا سیکھنے کا تجربہ تھا۔ اس نے ہمارے جمہوری ڈھانچے کے تحفظ کی اہمیت کومزید تقویت دی۔ اس کے علاوہ، مجھے مختلف سیاسی نظریات کے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔‘‘
انہوں نے کہا، ”مجھے خوشی ہے کہ بلو کرافٹ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن نے ان تجربات کو ایک کتاب کے طور پر مرتب کیا ہے، جس کا پیش لفظ ایچ ڈی دیوے گوڑا نے لکھا ہے، جوخود ایمرجنسی مخالف تحریک کے ایک مضبوط رہنما رہے ہیں۔ ’دی ایمرجنسی ڈائریز‘ میں، میں نے ایمرجنسی (1975-1977) کے دوران اپنے سفرکوشیئرکیا ہے۔ اس نے اس وقت کی کئی یادیں تازہ کردی ہیں، میں ان سبھی لوگوں سے گزارش کرتا ہوں، جنہیں ایمرجنسی کے وہ سیاہ دن یاد ہیں یا جن کے اہل خانہ نے اس وقت جو پریشانی برداشت کیں، وہ اپنے تجربات سوشل میڈیا پرشیئرکریں۔ اس سے نوجوانوں میں اس شرمناک دور کے بارے میں بیداری بڑھے گی۔“
ملک کو جیل میں بدل دیا گیا: وزیراعظم مودی
اس کتاب میں وزیراعظم نریندر مودی کے 25 جون 2024 کو ایمرجنسی کے کال دنوں کو یاد کرتے ہوئے دیئے گئے بیان کا ذکرکیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا، ”ہندوستان کی نئی نسل کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کیسے آئین کو پوری طرح سے نظرانداز کیا گیا، اسے تارتار کیا گیا اور ملک کو ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا، جہاں جمہوریت کو پوری طرح سے کچل دیا گیا۔“
ایمرجنسی کی مخالفت میں پہلی قطار میں کھڑے تھے وزیراعظم مودی
اس کتاب میں مزید بتایا گیا، ”1970 کی دہائی کے وسط میں جب ہندوستان ایمرجنسی کے لوہے کی زنجیروں میں جکڑا تھا، جمہوریت قید میں تھی۔ اس وقت نریندرمودی، جو تب ایک نوجوان سنگھ پرچارک تھے، کئی دیگراہم لیڈران اور کارکنان کے ساتھ اندرا گاندھی کے تانا شاہی کے خلاف کھڑے ہونے والے لیڈران کی پہلی لائن میں تھے۔ یہ کتاب ہندوستانی جمہوریت کے تاریک ترین دورمیں ان کے ان کہے تجربات کوظاہرکرتی ہے۔ ایمرجنسی کے دوران وزیراعظم مودی کا سفرآمریت کے خلاف جدوجہد کی ایک منفرد، زمینی سطح کی کہانی پیش کرتا ہے۔ ان کی خفیہ سرگرمیاں، خطرے سے تنگ نظری اورجمہوریت کی بحالی کے لئے غیرمتزلزل عزم کواس کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے، جوخوف اورجبرکے اس ماحول میں ان کے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔“
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ “ان کی سوانح عمری ‘سنگھرش ما گجرات’ اور دیگرعینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر، یہ کتاب ہندوستان کی تاریخ کے ایک اہم لمحے کو روشنی میں لاتی ہے اوراس لیڈرکی زندگی کے ایک ابتدائی باب کوظاہرکرتی ہے جو آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اعلیٰ ترین عہدے پرفائزہے۔ آئین میں یہ اس بات کا گواہ ہے کہ کس طرح نریندرمودی جیسے محنتی نوجوان کارکنوں کی قیادت میں عوام کے عزم نے ملک کی تقدیربدل دی۔
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…