نئی دہلی: پدم شری اعزاز یافتہ معروف لوک گلوکارہ ارمیلا سریواستو نے خواتین کے لیے مجوزہ ریزرویشن بل کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے خواتین کی سیاسی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنی آواز بلند کر سکیں گی۔ خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اُرمیلا سریواستو نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے جس کا خواتین کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ ان کے مطابق اگر خواتین کے لیے ریزرویشن بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے سیاست میں ان کی نمائندگی بڑھے گی اور وہ اپنے مسائل اور خیالات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے بارے میں کافی عرصے سے بات ہو رہی تھی، لیکن عملی طور پر اسے نافذ نہیں کیا جا سکا تھا۔
انہوں نے وزیر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیادت خواتین کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر خواتین کو برابر کا موقع دیا جائے تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکتی ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ پدم ایوارڈ یافتہ ششی سونی نے کہا کہ اگر خواتین کو پارلیمنٹ میں 33 فیصد ریزرویشن دیا جاتا ہے تو انہیں آگے بڑھ کر قیادت سنبھالنی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسی خواتین کو سامنے آنا چاہیے جو سچائی کے راستے پر چلیں، امن و استحکام کو فروغ دیں اور مثبت تبدیلی لا سکیں۔
ششی سونی نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی خواتین کی ترقی کے لیے وقف کر رکھی ہے اور اگر انہیں موقع ملا تو وہ ثابت کریں گی کہ خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سوچ پہلے کسی قیادت میں نظر نہیں آئی۔ دوسری جانب ماہر تعلیم ڈاکٹر ریتو دوبے تیواری نے اس بل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن سیاسی میدان میں ان کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو سیاست میں آگے بڑھنے کے لیے کئی رکاوٹوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جنہیں عبور کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کو مقامی سطح سے لے کر لوک سبھا تک کے سفر میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سماجی دباؤ، وسائل کی کمی اور مواقع کی قلت شامل ہیں۔ ایسے میں ریزرویشن بل ان کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح سماجی کارکن اور یوپی پولیس کی کونسلر ریتو نارنگ نے بھی اس بل کو ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر کئی برسوں سے بحث جاری تھی اور اب اس پر عملی پیش رفت ہونا ایک مثبت اشارہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سیاسی میدان میں مساوی مواقع فراہم کرنا نہ صرف جمہوری نظام کو مضبوط بنائے گا بلکہ معاشرے میں توازن اور شمولیت کو بھی فروغ دے گا۔ ان کے مطابق خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سے پالیسی سازی میں نئے خیالات اور بہتر فیصلے سامنے آئیں گے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین ریزرویشن بل کو لے کر مختلف حلقوں میں مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ بل نافذ ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف خواتین کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوگی بلکہ ملک کی جمہوریت بھی مزید مستحکم ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…