قومی

Court Grants Interim Bail To Khalid Saifi: دہلی فسادات کیس: خالد سیفی کو خاندانی شادی میں شرکت کے لیے ملی چھ دن کی عبوری ضمانت

نئی دہلی: دہلی کے کڑکڑڈوما عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے معاملے میں زیرِ سماعت ملزم خالد سیفی کو خاندانی شادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے چھ دن کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص تقاریب میں شرکت کے لیے محدود مدت کی رعایت دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزم کے بھتیجے کی بارات اور نکاح 16 اپریل کو ہونا ہے جبکہ بھتیجے اور بھانجی کا استقبالیہ 19 اپریل کو منعقد ہوگا۔ عدالت کے مطابق یہ دونوں تقاریب خاندانی نوعیت کی اہم تقریبات ہیں، اس لیے ملزم کو صرف انہی مواقع پر شرکت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عبوری ضمانت کا مقصد صرف محدود اور جائز خاندانی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔

سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر انیرودھ مشرا نے عبوری ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم ماضی میں بھی اسی نوعیت کی درخواستیں دیتا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی 13 اکتوبر 2025 اور 19 جنوری 2026 کو خالد سیفی کو خاندانی شادیوں میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی جا چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بار بار اسی بنیاد پر رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے پر چھ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس دوران متعدد سخت شرائط بھی عائد کیں تاکہ قانونی عمل متاثر نہ ہو۔ حکم کے مطابق خالد سیفی عبوری ضمانت کے دوران دہلی-این سی آر سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے اور انہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔

مزید برآں عدالت نے ملزم کو ہدایت دی کہ وہ اس مدت کے دوران کسی بھی گواہ سے رابطہ نہ کریں اور نہ ہی کسی طرح کے شواہد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی شرط کی خلاف ورزی کی گئی تو ضمانت فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس کیس میں دیگر ملزمان کو بھی مختلف اوقات میں عدالتوں سے ضمانت ملتی رہی ہے۔ 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے پانچ ملزمان کو ضمانت دی تھی جن میں گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان شامل ہیں۔ ان افراد کو دو دو لاکھ روپے کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دی گئی تھی اور ان پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی تھیں، جن میں عوامی ریلیوں میں شرکت اور پوسٹر تقسیم کرنے پر پابندی شامل تھی۔

اس کے علاوہ اس کیس میں پہلے بھی صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا نروال کو عدالتوں سے ضمانت مل چکی ہے۔ یہ تمام ملزمان مختلف الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم عدالتیں ہر کیس میں حالات کے مطابق فیصلے صادر کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں کم از کم 53 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان فسادات نے نہ صرف دارالحکومت بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے اور کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ فی الحال خالد سیفی کو دی گئی عبوری ضمانت محدود مدت اور مخصوص مقاصد کے لیے ہے اور کیس کی آئندہ سماعتوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Sibghatullah

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

1 minute ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

14 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

1 hour ago