قومی

PM Modi will visit Brussels: دسمبر میں برسلز جاکر بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے پر دستخط کریں گے وزیراعظم مودی

نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ انتظار آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے جمعرات کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی دسمبر میں برسلز کا دورہ کریں گے، جہاں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں مونٹریال کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیرِ اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کوسٹا نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی دسمبر میں اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آئیں گے۔‘‘ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ دورہ 17 دسمبر سے برسلز میں شروع ہونے والی یورپی رہنماؤں کی میٹنگ سے ٹھیک پہلے ہوگا۔

2 ارب سے زیادہ لوگوں کے لیے وسیع تجارتی بازار

بھارت اور یورپی یونین نے رواں سال کے آغاز میں تجارتی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرلیے تھے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اس معاہدے سے 2 ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ایک وسیع بازار تشکیل پائے گا، جس کا عالمی معیشت میں حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہوگا۔ گزشتہ ہفتے مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے چار سے پانچ ماہ کے اندر اسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس معاہدے سے بھارت اور یورپ دونوں کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بھارت کے دورے کے دوران مشترکہ طور پر اس معاہدے کے مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اسے بھارت اور یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔

روایتی تجارتی معاہدے سے آگے اقتصادی شراکت داری

یہ معاہدہ محض ایک روایتی تجارتی سمجھوتہ نہیں، بلکہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وسیع اقتصادی شراکت داری ہے۔ اس کے ذریعے بھارت اور یورپی یونین کھلی منڈی، پالیسی کے استحکام اور جامع ترقی کے مشترکہ اہداف کے تحت ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔ یورپی یونین بھارت کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ مالی سال 2024-25 میں دونوں کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 136.54 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 11.5 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ اس میں بھارت کی برآمدات 75.85 ارب ڈالر اور درآمدات 60.68 ارب ڈالر درج کی گئیں۔ وہیں خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارت 83.10 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 7.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

99 فیصد سے زیادہ اشیا کو یورپی بازار تک رسائی کی امید

بھارت اور یورپی یونین بالترتیب دنیا کی چوتھی اور دوسری سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔ دونوں مل کر عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں دونوں معیشتوں کے درمیان بڑھتا ہوا انضمام تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ معاہدے کے تحت بھارت کو تجارتی قدر کے لحاظ سے 99 فیصد سے زیادہ اشیا کے لیے یورپی بازار میں غیر معمولی رسائی ملنے کی امید ہے۔ اس سے ’میک اِن انڈیا‘ پہل کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ اشیا کی تجارت کے علاوہ خدمات کے شعبے میں بھی اہم مواقع پیدا ہوں گے۔  اس کے ساتھ ایک وسیع نقل و حرکت کے فریم ورک کے ذریعے بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے یورپ میں آمدورفت اور کام کے مواقع تک رسائی کو مزید آسان بنانے کی بھی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ نے راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر کسا طنز، دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابیوں کا بھی کیا ذکر

اپنے خطاب میں امیت شاہ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے…

30 minutes ago

Construction & Demolition Work Ban: دہلی-این سی آر میں 5 سے 20 نومبر تک تعمیراتی اور انہدامی کاموں پر پابندی، جانیے کیا ہے وجہ

مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی سمیت پورے…

38 minutes ago