وزیر اعظم نریندر مودی 11 مارچ 2026 کو جنوبی بھارت کی دو اہم ریاستوں کیرالہ اور تمل ناڈو کے دورے پر رہیں گے۔ اس ایک روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم دونوں ریاستوں کو مجموعی طور پر تقریباً 16,450 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ دیں گے۔ یہ دورہ نہ صرف بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے بلکہ اس سے روزگار کے مواقع بڑھنے، تجارت کو فروغ ملنے اور عام لوگوں کے سفر کو زیادہ آسان بنانے کی بھی امید ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق وزیر اعظم سب سے پہلے کیرالہ کے ارناکولم پہنچیں گے اور اس کے بعد تمل ناڈو کے تروچیرپلی میں مختلف تقریبات میں شرکت کریں گے۔
کیرالہ: صنعتی انقلاب کی نئی بنیاد
وزیر اعظم نریندر مودی کے کیرالہ دورے کا آغاز ارناکولم سے ہوگا۔ یہاں دوپہر تقریباً 1:30 بجے وہ 10,800 کروڑ روپے کی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) کی کوچی ریفائنری میں خرچ ہوگا، جہاں 5,500 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نئی پولی پروپائلین یونٹ قائم کی جائے گی۔ یہ یونٹ ہر سال تقریباً 400 کلو ٹن پولی پروپائلین تیار کرے گی، جس کا استعمال پلاسٹک پیکیجنگ، آٹو موبائل پرزہ جات اور طبی آلات میں ہوتا ہے۔ اس سے بھارت کی بیرونی ممالک پر انحصار کم ہوگا اور مقامی سطح پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
سڑکوں کے جال سے سفر ہوگا مزید آسان
کیرالہ میں ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے وزیر اعظم دو بڑے ہائی وے منصوبوں کا افتتاح بھی کریں گے۔ پہلی اسکیم این ایچ-66 کے تھلاپڈی–چینگلا سیکشن کی ہے، جسے 2,650 کروڑ روپے کی لاگت سے چھ لین کا بنایا گیا ہے۔ یہ ممبئی–کنیا کماری کوریڈور کا اہم حصہ ہے۔ دوسری بڑی اسکیم کوزیکوڈ بائی پاس ہے، جو 2,140 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہوئی ہے۔ اس بائی پاس کے بننے سے جو سفر پہلے تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوتا تھا، وہ اب صرف 15 سے 20 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت تعمیر کی گئی 23 دیہی سڑکوں کا بھی افتتاح ہوگا، جس سے دیہات کے کسانوں اور طلبہ کو شہروں تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔
ریلوے اور صاف توانائی: اسٹیشنوں سے گرین انرجی تک
ریلوے کے شعبے میں بھی کیرالہ کو بڑی سہولت ملنے والی ہے۔ وزیراعظم امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت شورانور جنکشن، کٹّی پورم اور چنگناسّیری ریلوے اسٹیشنوں کے جدید روپ کا افتتاح کریں گے۔ ان اسٹیشنوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شورانور–نیلامبور ریلوے لائن کی بجلی کاری (الیکٹریفکیشن) کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے، جسے قوم کے نام وقف کیا جائے گا۔ ماحولیات کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر کولّم ضلع میں 50 میگاواٹ کے فلوٹنگ سولر پاور پلانٹ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔
تمل ناڈو کو گیس پائپ لائن اور نئی صنعتوں کی سوغات
کیرالہ کے بعد وزیراعظم شام تقریباً 5:45 بجے تروچیرپلی (تمل ناڈو) پہنچیں گے۔ یہاں وہ 5,650 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ ان میں سب سے اہم نیلگیری اور ایروڈ اضلاع میں بی پی سی ایل کا سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک ہے۔ 3,680 کروڑ روپے کے اس پروجیکٹ سے تقریباً 8.8 لاکھ گھروں کو پائپ کے ذریعے پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ چنئی میں انڈین آئل کا نیا لوب بلینڈنگ پلانٹ بھی شروع کیا جائے گا، جو 1,490 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پلانٹ بھارت میں لبریکینٹ آئل کی پیداوار کی صلاحیت کو مزید بڑھانے میں مدد دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…
ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…