نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کے روز اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں مغربی ایشیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور عالمی توانائی کی فراہمی پر اس کے اثرات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ دونوں لیڈروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین اقتصادی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث اس راستے کو فی الحال خطرناک قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور ممکنہ مذاکرات
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق نئے انتظامات سامنے آ سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت موجودہ بحران کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں کہا کہ وہ مغربی ایشیا کے متعدد ممالک کے سربراہان سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران بھی بھارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، بھارت کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
خلیجی ممالک میں بھارتیوں کی سلامتی
وزیراعظم نے خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک کروڑ بھارتی اس خطے میں رہتے اور کام کرتے ہیں، جن کی جان و مال کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کئی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں بھارتی عملہ بھی موجود ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں اور عالمی سطح پر امن کی اپیلوں کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی کوئی مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہو جاتی ہیں تو عالمی توانائی بحران میں کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…
بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع…
ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…
50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کے تمغوں کی تعداد 30 ہوگئی، 4 گولڈ، 12…